.

یومِ پاکستان پریڈ،ملکی ساختہ مسلح ڈرون کی نمائش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں یوم جمہوریہ کے موقع پر تینوں مسلح افواج نے سات سال کے وقفے کے بعد پریڈ کا شاندار مظاہرہ کیا ہے اور اس موقع پر پاکستان کے اپنے تیار کردہ بغیر پائیلٹ طیارے (مسلح ڈرون) کی نمائش کی گئی ہے۔

پاکستانی حکام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس مسلح ڈرون کو ایک اہم اضافہ قرار دیا ہے۔واضح رہے کہ گذشتہ سات برسوں کے دوران دہشت گردی کے حملوں کے پیش نظر اسلام آباد میں مسلح افواج کی اس سالانہ پریڈ کا انعقاد نہیں کیا گیا تھا۔

اسلام آباد کے علاقے شکرپڑیاں میں نئے تیار کردہ کھلے میدان میں تینوں مسلح افواج برّی ،بحری اور فضائیہ کے چاق چوبند دستوں نے مشترکہ پریڈ میں حصہ لیا اور اس موقع پر نئے ڈرون کو پرواز کے لیے چھوڑا گیا ہے۔ فرنٹیر کور،پاکستان رینجرز اور خصوصی کمانڈو فورس کے دستے بھی پریڈ میں شریک تھے۔

اس پریڈ کے موقع پر پاکستان کی رنگا رنگ ثقافت کو بھی اجاگر کیا جاتا ہے۔اس مقصد کے لیے چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر کی تہذیب و ثقافت کے عکاس خصوصی فلوٹس تیار کیے گئے تھے۔اسکولوں کے بچوں نے ملک کے مختلف علاقوں کی پہچان لباس پہن کر علاقائی ثقافت کو اجاگر کیا۔

پاک فضائیہ کے سربراہ ائیرمارشل سہیل امان نے خود پاکستان میں چین کے تعاون سے تیار کردہ جے ایف 17 تھنڈر طیارہ اڑاتے ہوئے فلائی پاسٹ کیا اور ان کی قیادت میں پاک فضائیہ کے طیاروں نے صدر ممنون حسین کو سلامی دی۔اس موقع پر وزیراعظم میاں نواز شریف،پاک آرمی کے سربراہ جنرل راحیل شریف اور بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ذکاء اللہ بھی موجود تھے۔

صدر مملکت ممنون حسین نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعلقات چاہتا ہے۔دونوں ملکوں کے درمیان تنازعہ کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق طے کیا جانا چاہیے۔انھوں نے 16 دسمبر 2014ء کو آرمی پبلک اسکول پشاور میں دہشت گردوں کے حملے میں جاں بحق ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔

یاد رہے کہ 23 مارچ 1940ء کو لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس کے موقع پر قرارداد پاکستان کی منظوری کی یاد میں ہر سال مسلح افواج پریڈ کرتی ہیں اور اس موقع پر پاکستان کے اپنے تیار کردہ ہتھیاروں ،لڑاکا طیاروں اور اسلحے کی بھی نمائش کی جاتی ہے۔اس قرارداد کی روشنی میں اسلامیانِ ہند سات سال کی شبانہ روز جدوجہد کے بعد 14 اگست 1947 ء کو اپنے لیے الگ وطن پاکستان کے حصول میں کامیاب ہوگئے تھے۔

اس سے قبل 23 مارچ 2008ء کو یوم پاکستان کے موقع پر مسلح افواج کی اسلام آباد میں پریڈ منعقد کی گئی تھی۔تب جنرل ریٹائرڈ پرویزمشرف ملک کے سویلین صدر تھے۔ان کے دور تک پارلیمینٹ ہاؤس کے سامنے پریڈ ایونیو میں پریڈ ہوتی رہی ہے لیکن اس مرتبہ وہاں میٹرو بس کے لیے شاہراہ زیر تعمیر ہونے کی وجہ سے جگہ کو تبدیل کردیا گیا ہے۔

یوم پاکستان کی پریڈ کے موقع پر دارالحکومت اسلام آباد اور اس کے جڑواں شہر راول پنڈی میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔رات بارہ بجے سے وائرلیس انٹرنیٹ اور سیل فون سروسز معطل کردی گئی تھیں اور انھیں دوپہر دوبجے کے بعد بحال کیا گیا ہے۔اس موقع پر اسلام آباد میں شادی کی تقریبات ،آتش بازی ،ہوائی فائرنگ ،پتنگ بازی اور کبوتر اڑانے پر بھی سخت پابندی عاید تھی۔دونوں شہروں کے تمام داخلی اور خارجی راستوں پر قائم چیک پوائنٹس پر سکیورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی اور لوگوں کی آمد ورفت پر کڑی نظر رکھی جارہی تھی۔