.

خیبر ایجنسی: پاک فوج کی بمباری، 30 مشتبہ جنگجو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان آرمی نے افغان سرحد کے نزدیک واقع وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے خیبرایجنسی کی وادی تیراہ میں میں مشتبہ طالبان کے ٹھکانوں پر متعدد فضائی حملے کیے ہیں جن کے نتیجے میں کالعدم گروپ لشکر اسلام کے ترجمان سمیت کم سے کم تیس جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ فضائی حملوں میں جنگجوؤں کے اسلحے کے دو ڈپوؤں کو بھی تباہ کردیا گیا ہے۔مقامی ذرائع کے مطابق فضائی بمباری میں مارے گئے جنگجوؤں میں کالعدم لشکر اسلام کا ترجمان صلاح الدین ایوبی بھی شامل ہے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق ایک اور قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں پاک فوج کی کارروائی میں آٹھ مشتبہ جنگجو مارے گئے ہیں۔سکیورٹی فورسز نے یہ کارروائی اورکزئی ایجنسی کے علاقے سبک میں سڑک کے کنارے نصب بم کے دھماکے کے بعد کی ہے۔اس حملے میں ایک اہلکار جاں بحق ہوگیا تھا۔

ایک روز قبل ہی منگل کو خیبر ایجنسی کے ساتھ واقع افغانستان کے صوبے ننگرہار کے ضلع نازیان میں بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے کے میزائل حملے میں آٹھ مشتبہ جنگجو ہلاک ہوگئے تھے۔ان میں لشکر اسلام کے سربراہ منگل باغ کا ڈرائیور شاکر سپاہ بھی شامل تھا۔

پاکستان آرمی خیبرایجنسی میں اکتوبر 2014ء سے خیبراوّل اور خیبر دوم کے نام سے طالبان جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کررہی ہے۔ایجنسی کے علاقوں وادی تیراہ اور باڑا میں اب تک بیسیوں جنگجو فضائی بمباری میں ہلاک ہوچکے ہیں اور تین سے چار کے درمیان مشتبہ افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ لشکراسلام اور دوسرے گروپوں کے بہت سے کمانڈروں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں اور خود کو حکام کے حوالے کردیا ہے۔

فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ خیبرایجنسی میں جنگجوؤں کے تمام ٹھکانوں کے مکمل خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔ادھر ایک اور قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں بھِی پاک آرمی نے کالعدم تحریک طالبان کے جنگجوؤں کے خلاف آپریشن ضرب عضب جاری رکھا ہوا ہے۔اس بڑی فوجی کارروائی میں بھی اب تک سیکڑوں مشتبہ جنگجو مارے جا چکے ہیں۔