.

پاکستان کا حوثی مخالف فوجی مہم میں شمولیت سے گریز

مسلم اُمہ کو تقسیم کرنے والے تنازعے میں نہیں پڑیں گے:وزیردفاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وزیردفاع خواجہ محمد آصف نے واضح کیا ہے کہ ان کے ملک نے یمن میں جاری تنازعے میں شریک ہونے کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے اور اس نے صرف سعودی عرب کی علاقائی سالمیت اور خود مختاری کے تحفظ کا وعدہ کیا ہے۔

انھوں نے جمعہ کو پارلیمان کے ایوان زیریں قومی اسمبلی میں یمنی تنازعے سے متعلق بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان مسلم دنیا میں تنازعات کے خاتمے کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔اس کو ابتر صورت حال کو بڑھاوا دینے کے بجائے اس کو قابو میں لانے اور مسلم دنیا کے درمیان اتحاد کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان اسلامی دنیا میں جاری تنازعات کے خاتمے کے لیے مصالحت کار کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔وزیردفاع کا کہنا تھا کہ ہم ایسے کسی تنازعے میں نہیں پڑنا چاہتے جس سے مسلم دنیا میں پھوٹ پڑ سکتی ہو اور خود پاکستان میں بھی صورت حال (فالٹ لائنز) خراب ہونے کا اندیشہ ہو۔

خواجہ محمد آصف نے یہ وضاحتی بیان سعودی عرب کی جانب سے اس اعلان کے ایک روز بعد دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان یمن میں حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف جنگی مہم کے لیے اتحاد میں شامل ہوجائے گا لیکن اب وزیردفاع کے اعلان کے بعد پاکستان کے فوری طور پر حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی قیادت میں آپریشن فیصلہ کن طوفان میں شمولیت کا امکان نظر نہیں آتا ہے۔البتہ پاکستان نے سعودی قیادت کے ساتھ بات چیت کے لیے اعلیٰ سطح کا ایک وفد الریاض بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیردفاع نے قومی اسمبلی میں مزید کہا کہ ''ہم چاہتے ہیں کہ اس ایشو کو ایک عام فورم میں طے کیا جائے جہاں مسلم دنیا یا عرب لیگ شریک ہوں۔اب وقت کی ضرورت اتحاد اور یک جہتی ہے ،تقسیم نہیں''۔

انھوں نے کہا کہ شام ،عراق اور یمن میں مذہب اور فرقے کی بنیاد پر تقسیم بڑھ رہی ہے،اس کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے روکا جانا چاہیے۔تاہم انھوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اگر سعودی عرب کی خود مختاری یا سالمیت کے لیے خطرات پیدا ہوئے تو پاکستان اس کا دفاع کرے گا۔

قبل ازیں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ پاکستان کو اسلامی دنیا میں خاص طور پر اُمن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور مشرق وسطیٰ میں جاری جنگوں میں کسی فریق کی طرف داری نہیں کرنی چاہیے۔

انھوں نے تجویز پیش کی کہ اس معاملے میں کوئی فیصلہ کرنے کے لیے پارلیمان کا مشترکہ اجلاس یا کل جماعتی کانفرنس طلب کی جائے۔ان کا کہنا تھا کہ موجودہ دور کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ملک کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی لائی جانی چاہیے۔