.

الطاف حسین کا ایم کیو ایم کی قیادت سے علاحدگی کا اعلان

ماضی میں بھی انہوں نے متعدد بار قیادت سے علاحدگی کے اعلانات کئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی ایک سرکردہ لسانی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے خود ساختہ جلاوطن قائد الطاف حسین کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ بہت کھلواڑ ہوچکا ہے۔ اب وہ قیادت کا بوجھ نہیں اُٹھا سکتے۔ کارکن شام کو جمع ہو کر نئی قیادت کا انتخاب کر لیں۔

اس امر کا اعلان انہوں نے لندن سے براہ راست نائن زیرو پر اپنی پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں سے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے کیا.

الطاف حسین کے قیادت چھوڑنے کے اعلان پر ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی نے بھی استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا ہے۔
ماضی میں بھی الطاف حسین متعدد بار قیادت سے علاحدگی کے اعلانات کرتے رہے ہیں لیکن بعد میں 'کارکنوں کے جذباتی دباٶ' کے ہاتھوں مجبور ہو کر خود ہی اعلان واپس لیتے رہے ہیں.

ایم کیو ایم کے ذمہ داروں سے خطاب میں متحدہ کے قائد نے ایم کیو ایم سے علاحدگی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آج کے بعد وہ متحدہ کے قائد نہیں رہیں گے۔ اب جو گالی دے گا، وہ ان کو نہیں، بلکہ پوری قوم کو پڑے گی۔

اُنہوں نے کارکنوں کو ایم کیو ایم ختم کرکے تمام توانائیاں انسانیت کے لیے وقف کرنے کی بھی نصیحت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ کارکن خدمت خلق فاؤنڈیشن کے تحت فلاحِ انسانیت کے مشن میں کام کریں۔

الطاف حسین نے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ عمران فاروق کے قتل پر میرے ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے اور میں خود پر قابو نہ پاتے ہوئے رو پڑا تو عمران خان نے میرے جذبات کا مذاق اُڑایا۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے دھرنے میں کہا تھا تبدیلی آنے تک گھر نہیں جاؤں گا۔ شادی کرنے کے بعد عمران خان کا انقلاب اور کنٹینر دونوں غائب ہو گئے۔

الطاف حسین نے کہا کہ عمران خان نے میڈیا پر اُنہیں قاتل کہا جبکہ ولی بابر کو وہ جانتے تک نہیں تھے۔ قتل ہونے کے بعد پتہ چلا کہ ولی بابر کوئی رپورٹر ہے۔

متحدہ کے قائد نے کہا کہ عمران خان کو اُن کی دو گھنٹے تقریر کرنے پر اعتراض ہے۔ وہ بتائیں کہ میڈیا نے دھرنوں کی اتنی زیادہ کوریج کیوں کی۔

یمن کی صورتحال پر الطاف حسین کا کہنا تھا کہ پاکستان نے پانچ جنگیں لڑیں مگر کسی نے پاکستان کی مدد نہیں کی۔ اُنہوں نے اس معاملے پر وزیر اعظم سے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کامطالبہ کیا۔