.

عالمی برادری یمن میں جاری بحران حل کرائے:پاکستان

سعودی عرب کی حوثی مخالف مہم میں پاکستان کی شمولیت کا فیصلہ نہیں ہوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان نے اقوام متحدہ ،اسلامی تعاون تنظیم (اوآئی سی) اور عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ یمن میں جاری بحران کے سیاسی حل کے لیے مثبت اور تعمیری کردار ادا کرے۔

پاکستان کی جانب سے یہ اپیل اسلام آباد میں سوموار کو وزیراعظم میاں نواز شریف کی صدارت میں اعلیٰ عسکری اور سیاسی قیادت کے اجلاس کے بعد کی گئی ہے۔اس اجلاس میں وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار ،وزیردفاع خواجہ محمد آصف ،قومی سلامتی اور خارجہ امور کے لیے وزیراعظم کے مشیر سرتاج عزیز ،آرمی چیف جنرل راحیل شریف ،ائیر چیف مارشل سہیل امان اور سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری سمیت اعلیٰ عہدے داروں نے شرکت کی ہے۔

اجلاس میں یمن کی صورت حال پر تفصیلی غور کیا گیا ہے۔اس کے بعد وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ''پاکستان نے ملک کے عوام کی منشا کے مطابق سعودی عرب کی سالمیت اور علاقائی خود مختاری کی حمایت کا پختہ عزم کررکھا ہے''۔

اجلاس میں اس بات پر زوردیا گیا ہے کہ پاکستان مشرقی وسطیٰ کی بگڑتی ہوئی صورت حال کے حل کے لیے تعمیری کردار ادا کرے گا۔اس مقصد کے حصول کے لیے وزیراعظم میاں نواز شریف برادر ممالک کے لیڈروں سے رابطے کریں گے۔

حوثی مخالف مہم میں شمولیت؟

پاکستان نے یمن میں حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف سعودی عرب کی قیادت میں فوجی مہم میں شرکت کا ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے اور اس ضمن میں وزیردفاع خواجہ آصف اور مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا ایک وفد سعودی عرب بھیجا جارہا ہے جو سعودی حکام سے ممکنہ فوجی تعاون کے سلسلے میں بات چیت کرے گا اور یہ بھی جائزہ لے گا کہ سعودی عرب کو پاکستان سے کس قسم کی مدد درکار ہے۔

لیکن اس دوران برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز نے ایک سینیر عہدے دار کے حوالے سے سوموار کو یہ اطلاع دی ہے کہ پاکستان یمن میں حوثیوں کے خلاف لڑائی میں حصہ لینے کے لیے اپنے فوجی سعودی عرب بھیجے گا۔

رائیٹرز نے اس پاکستانی عہدے دار کی شناخت تو ظاہر نہیں کی ہے لیکن ان کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ ''ہم پہلے ہی سعودی عرب کے حوثی باغیوں کے خلاف آپریشن کی مکمل حمایت کا وعدہ کرچکے ہیں اور بہت جلد اس اتحاد میں شامل ہوجائیں گے''۔

واضح رہے کہ اس وقت ساڑھے سات سو سے آٹھ سو تک پاکستانی فوجی سعودی عرب میں موجود ہیں لیکن ان میں لڑاکا دستے شامل نہیں ہیں۔پاک فوج کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ طائف شہر کے نزدیک مشترکہ فوجی مشقیں کی ہیں۔یہ مشقیں 19 مارچ سے جاری ہیں اور ان میں 292 پاکستانی فوجی حصہ لے رہے ہیں۔

پاکستانی اور سعودی افواج ہر سال مشترکہ مشقیں کرتی ہیں۔گذشتہ سال یہ مشقیں پاکستان میں ہوئی تھیں اور اس مرتبہ سعودی عرب میں ایسے وقت میں کی جاری ہیں جب سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک کے طیارے یمن میں حوثی شیعہ باغیوں کے ٹھکانوں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنا رہے ہیں۔ان مشقوں کو الصمام پنجم کا نام دیا گیا ہے۔

قبل ازیں جمعہ کو وزیردفاع خواجہ محمد آصف نے قومی اسمبلی میں بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان نے یمن میں جاری تنازعے میں شریک ہونے کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے اور اس نے صرف سعودی عرب کی علاقائی سالمیت اور خود مختاری کے تحفظ کا وعدہ کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ''پاکستان مسلم دنیا میں تنازعات کے خاتمے کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ ہم ایسے کسی تنازعے میں نہیں پڑنا چاہتے جس سے مسلم دنیا میں پھوٹ پڑ سکتی ہو اور خود پاکستان میں بھی صورت حال (فالٹ لائنز) خراب ہونے کا اندیشہ ہو''۔