.

لندن:ایم کیو ایم کے رہ نما محمد انور ضمانت پر رہا

میٹرو پولیٹن پولیس کی منی لانڈرنگ کیس میں 10 گھنٹے تک تفتیش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لندن پولیس نے پاکستان کی تشدد پسند لسانی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کی رابطہ کمیٹی کے رکن اور سینیر رہ نما محمد انور کو ضمانت پر رہا کردیا ہے۔

لندن پولیس نے بدھ کی صبح محمد انور کو منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں گرفتار کیا تھا اور دس گھنٹے تک ان سے تھانے میں تفتیش کی ہے۔ایم کیوایم نے ٹویٹر پر جاری کردہ ایک بیان میں ان کی رہائی کی تصدیق کردی ہے۔

قبل ازیں لندن میٹرو پولیٹن پولیس نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں برطانوی دارالحکومت کے شمال مغربی علاقے میں ایک چونسٹھ سالہ شخص کی منی لانڈرنگ کے شُبے میں گرفتاری کی تصدیق کی تھی۔

پولیس کی انسداد دہشت گردی کمان (ایس او15 ) کے افسروں نے بھی ایک مشتبہ شخص کو اس کے مکان سے گرفتار کرنے کی خبر دی تھی اور بتایا تھا کہ افسروں نے اس کے مکان کی تلاشی لی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ''یہ گرفتاری بھی منی لانڈرنگ کیس کی جاری تحقیقات کا حصہ ہے اور مشتبہ شخص کو وسطی لندن کے ایک پولیس اسٹیشن میں حراست میں رکھا گیا ہے''۔

برطانوی حکام نے قانونی تقاضوں کے پیش نظر اس شخص کی شناخت ظاہر نہیں کی تھی لیکن ایم کیو ایم کے ایک رہ نما حیدر عباس رضوی نے پاکستان کے ایک نجی ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھی کہ گرفتار ہونے والی شخصیت کوئی اور نہیں، محمد انور ہیں اور ایک قانونی ٹیم ان کی مدد کے لیے تھانے میں موجود ہے۔

لندن پولیس نے ماضی قریب میں ایم کیو ایم کے خود ساختہ جلا وطن قائد الطاف حسین سمیت چار مشتبہ کو منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں گرفتار کیا تھا۔تاہم انھیں بعد میں ضمانت پر رہا کردیا گیا تھا۔ان میں ایک تہتر سالہ شخص (الف) اور ایک چوالیس سالہ شخص (ب) کو 5 دسمبر 2013ء کو گرفتار کیا گیا تھا اور وہ دونوں تب سے اپریل تک ضمانت پر ہیں۔

لندن پولیس نے ایک اور اکسٹھ سالہ شخص (ج) کو 3 جون 2014ء کو منی لانڈرنگ کے شُبے میں گرفتار کیا تھا اور پھر اپریل تک ضمانت پر رہا کردیا تھا۔یہ صاحب ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین تھے۔ایک اور اکتالیس سالہ شخص 12 جنوری کو گریٹر مانچسٹر پولیس سے وقت لے کر ملاقات کے لیے گئے تھے لیکن پولیس نے انھیں وہیں منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتار کر لیا تھا اور پھر اپریل کی کسی تاریخ تک ضمانت پر رہا کردیا تھا۔

17 فروری کو ستائیس سالہ ایک اور صاحب سفولک میں ایک پولیس اسٹیشن پر تشریف لے گئے تھے۔انھیں بھی پولیس نے منی لانڈرنگ کے شُبے میں گرفتار کر لیا تھا مگر بعد میں اپریل تک ضمانت پر رہا کردیا تھا۔

واضح رہے کہ سنہ 2013ء میں لندن میٹرو پولیٹن پولیس نے الطاف حسین کی قیام گاہ پر چھاپہ مار کارروائی کے دوران وہاں سے نقد رقوم برآمد کرنے کی تصدیق کی تھی۔پولیس کے انسداد دہشت گردی یونٹ نے ایم کیو ایم کے مقتول رہ نما ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں الطاف حسین کی قیام گاہ اور دفتر پر 6 دسمبر 2012ء کو چھاپہ مارا تھا۔

اس کے بعد لندن کے شمالی علاقے میں واقع متعدد مکانوں میں 18 جون 2013ء کو چھاپہ مار کارروائیاں کی گئی تھیں اور ان کارروائیوں کے دوران بھاری رقوم برآمد کی گئی تھیں۔ایم کیو ایم کے ایک سرکردہ رہ نما ڈاکٹر فاروق ستار نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے لندن میں چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران نقد رقوم برآمد ہونے کی تصدیق کی تھی۔