.

176 پاکستانیوں کی خصوصی پرواز سے وطن واپسی

چین کے بحری جہاز کے ذریعے عدن سے 225 غیرملکیوں کا انخلاء

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی قومی فضائی کمپنی کا خصوصی طیارہ جیبوتی سے ایک سو چھہتر پاکستانیوں کو لے کر جمعہ کی دوپہر دارالحکومت اسلام آباد کے بے نظیر بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پہنچ گیا ہے۔ہوائی اڈے پر وزیردفاع خواجہ محمد آصف اور وزیراعظم کے مشیر برائے سول ایوی ایشن شجاعت عظیم بھی یمن سے واپس آنے والے پاکستانیوں کے استقبال کے لیے موجود تھے۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے قبل ازیں جمعرات کو یمن کی بندرگاہ عدن سے ایک سو چھیاسی پاکستانیوں کی چینی بحریہ کے جہاز کے ذریعے جیبوتی منتقلی کی تصدیق کی تھی۔ان کے علاوہ ایک سو پچھہتر پاکستانی یمن کے جنوبی ساحلی شہر مکلا میں پھنسے ہوئے ہیں اور انھیں بھی لینے کے لیے پاکستان کی بحریہ کا ایک جہاز مکلا پہنچ چکا ہے۔

لیکن وہاں القاعدہ کے جنگجوؤں کے ایک جیل پر حملے کے بعد سے جھڑپیں جاری ہیں جس کی وجہ سے ان پاکستانیوں کو نکالنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔القاعدہ کے جنگجوؤں نے بدھ کی رات مکلا کی جیل پر حملہ کرکے تین سو قیدیوں چھڑوا لیا تھا۔ان میں ان کے متعدد ارکان بھی شامل تھے۔

ایک سو پینتالیس پاکستانیوں پر مشتمل ایک اور گروپ یمنی دارالحکومت صنعا میں موجود ہے۔یہ گروپ یمن کے دوسرے شہروں میں منتقلی پر آمادہ نہیں ہوا تھا۔وزیردفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ انھیں وہاں سےنکالنے کے لیے پی آئی اے کے خصوصی طیارے کا انتظام کیا جارہا ہے۔اگر پی آئی اے کا طیارہ صنعا کے ہوائی اڈے پر نہ تو اتر سکا تو پھر سعودی عرب سے ان پاکستانیوں کو حدیدہ منتقل کرنے کے لیے کہا جائے گا۔

واضح رہے کہ یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف فوجی مہم کے آغاز سے قبل قریباً تین ہزار پاکستانی روزگار کے سلسلے میں مقیم تھے۔ان میں سے پانچ سو کو گذشتہ اتوار کو خصوصی پرواز کے ذریعے کراچی لایا گیا تھا اور باقی کو بھی وطن واپس منتقل کرنے کے لیے انتظامات کیے جارہے ہیں۔

چین کی مدد سے انخلاء

چین کی مدد سے دس ممالک سے تعلق رکھنے والے دوسو پچیس شہریوں کو یمن سے نکال لیا گیا ہے اور انھیں چین کی میزائل فریگیٹ کے ذریعے افریقی ملک جیبوتی منتقل کردیا گیا ہے۔

چین کی وزارت خارجہ نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں بتایا ہے کہ ان غیر ملکیوں کو یمن کے جنوبی شہر عدن کی بندرگاہ سے جمعرات کو جیبوتی منتقل کیا گیا ہے۔ان میں پاکستان ،ایتھوپیا ،سنگاپور ،اٹلی ،جرمنی ،پولینڈ ،آئیرلینڈ ،برطانیہ اور کینیڈا کے شہری شامل تھے۔ان ممالک کے علاوہ یمن نے چین سے ان غیرملکیوں کے انخلاء کے لیے مدد کی درخواست کی تھی۔

قبل ازیں چین نے اپنے پانچ سو اکہتر شہریوں اور چینی کمپنیوں کے لیے کام کرنے والے آٹھ غیرملکیوں کا یمن سے انخلاء کیا تھا۔واضح رہے کہ چین ماضی میں بین الاقوامی سطح پر بحرانوں کے مواقع پر امدادی سرگرمیوں کے حوالے سے کوئی زیادہ فعال نہیں رہا ہے لیکن اب وہ اپنے بڑھتے ہوئے معاشی مفادات کے پیش نظر ہنگامی صورت حال میں امدادی سرگرمیوں میں بھی پیش پیش نظر آرہا ہے۔

چین کی تیل کی درآمدات کا انحصار مشرق وسطیٰ پر ہے لیکن وہ روس یا امریکا کی طرح اس خطے کی سفارت کاری میں کوئی بڑا کردار نہیں ہے۔اس نے یمن کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس کے سیاسی حل کی ضرورت پر زوردیا ہے۔