.

اسلام آباد: ایرانی وزیرخارجہ کی سرتاج عزیز سے ملاقات

یمن بحران اور دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے وزیرخارجہ محمد جواد ظریف پاکستان کے دو روزہ سرکاری دورے پر بدھ کو دارالحکومت اسلام آباد پہنچے ہیں۔وہ پاکستانی عہدے داروں سے یمن میں جاری بحران کے حوالے سے بات چیت کریں گے۔

جواد ظریف نے اپنی آمد کے فوری بعد وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف کے مشیر برائے خارجہ امور اور قومی سلامتی سرتاج عزیز سے ملاقات کی ہے اور ان سے ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے منگل کو تہران میں ایرانی قیادت سے ہونے والی بات چیت کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔

ایرانی وزیرخارجہ جمعرات کو اسلام آباد میں وزیراعظم میاں نواز شریف سے ملاقات کریں گے۔ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق اس سے پہلے انھوں نےاومان کا دورہ کیا ہے اور وہاں اپنے ہم منصب سے یمن میں جاری بحران سمیت خطے میں ہونے والی تازہ پیش رفت کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا تھا۔ان کے ہمراہ ایران کا بائیس رکنی وفد اسلام آباد آیا ہے۔اس میں نائب وزیرخارجہ ابراہیم رحیم پور بھی شامل ہیں۔

جواد ظریف یمن بحران کے علاوہ پاکستانی قیادت سے دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور خاص طور پر سرحدی علاقے میں پائی جانے والی کشیدگی کے حوالے سے بھی بات چیت کریں گے۔پاکستان کی سرحد سے ملحقہ ایرانی صوبے سیستان،بلوچستان میں سوموار کو مسلح افراد کے حملے میں آٹھ ایرانی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔ایرانی حکام نے الزام عاید کیا تھا کہ یہ حملہ آور پاکستان کے سرحدی علاقے کی جانب سے آئے تھے۔

ایرانی وزیر خارجہ ایسے وقت میں یہ دورہ کررہے ہیں جب پاکستان کی پارلیمان ملک کی سعودی عرب کی قیادت میں یمن میں حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف فضائی مہم میں شرکت کے حوالے سے معاملے پر بحث کررہی ہے۔پاکستان نے ابھی اس جنگ میں شرکت کا فیصلہ نہیں کیا ہے لیکن یہ قیاس آرائی کی جاتی رہی ہے کہ وہ سعودی عرب کی قیادت میں فوجی اتحاد کا حصہ بن جائے گا۔البتہ پاکستانی ارباب اقتدار نے ایک سے زیادہ مرتبہ سعودی عرب کے خلاف کسی بھی جارحیت کی صورت میں اس کے دفاع کے عزم کا اظہار کیا ہے اور یمن میں جاری بحران کے سیاسی حل کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

ایرانی وزیرداخلہ عبدالرضا رحمانی فاضلی نے گذشتہ اتوار کو تہران میں پاکستانی سفارت خانے میں منعقدہ ایک تقریب میں کہا تھا کہ''ہم علاقائی تنازعات اور خاص طور پر یمن کے ایشو کو طے کرنے کے لیے پاکستان کے ساتھ تعاون کو تیار ہیں''۔