.

انتخابی دھاندلیوں کی تحقیقات کے لیےعدالتی کمیشن کا قیام

عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس ناصرالملک تین رکنی کمیشن کے سربراہ ہوں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عدالتِ عظمیٰ پاکستان نے چیف جسٹس ،جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سنہ 2013ء میں منعقدہ عام انتخابات میں مبینہ دھاندلیوں اور بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیشن کے قیام کا اعلان کیا ہے۔

عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس نے یہ کمیشن صدر ممنون حسین کی جانب سے اس سلسلے میں ایک آرڈی ننس کے اجراء کے بعد قائم کیا ہے۔عدالتِ عظمیٰ کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ ایک بیان کے مطابق جسٹس اعجاز افضل خان اور جسٹس امیرہانی مسلم اس کے باقی دو ارکان ہوں گے۔اس کا پہلا اجلاس جمعرات نو اپریل کو عدالت عظمیٰ کی عمارت میں ہوگا۔

واضح رہے کہ گذشتہ عام انتخابات میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں اور دھاندلیوں کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کا قیام پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا مطالبہ تھا اور اس نے اس مطالبے کو منوانے کے لیے اگست سے دسمبر 2014ء تک وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں احتجاجی دھ؛رنا دیے رکھا تھا اور دوسرے شہروں میں ریلیاں منعقد کی تھیں۔

پی ٹی آئی کے چئیرمین عمران خان نے عدالتی کمیشن کے قیام پر اپنے جماعت کے کارکنان اور ملک کے عوام کو مبارک باد دی ہے۔وہ اس کی خبر منظرعام پر آنے کے وقت صوبہ سندھ کے شہر حیدر آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے اپنی جماعت کے کارکنان کا حمایت پر شکریہ ادا کیا۔اس موقع پر پی ٹی آئی کے کارکنان نے وزیراعظم میاں نواز شریف کے خلاف ''گو نواز گو'' کے نعرے لگائے۔

پی ٹی آئی نے اسمبلیوں میں واپس آنے کے لیے عدالتی کمیشن کے قیام کی شرط عاید کررکھی تھی اور اس کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے حکومت کے ساتھ اس سلسلے میں سمجھوتا طے پا جانے کے بعد گذشتہ اتوار کو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کا فیصلہ کیا تھا اور سوموار کو عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی نے اجلاس میں شرکت کی تھی۔انھوں نے یمن میں حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف سعودی عرب کی قیادت میں فوجی مہم میں پاکستان کی شمولیت کے حوالے سے بحث میں حصہ لیا تھا۔

حکومت کے اعلیٰ مذاکرات کار اسحاق ڈار کے بہ قول عدالتی کمیشن اس بات کا تعیّن کرے گا کہ آیا گذشتہ عام انتخابات میں پاکستانی عوام کی منشاء کا اظہار ہوا تھا یا نہیں اور وہ ترجیحاً پینتالیس روز میں اپنی تحقیقات مکمل کرے گا۔

انھوں نے پی ٹی آئی کے ساتھ عدالتی کمیشن کے قیام کے لیے سمجھوتے طے پانے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر کمیشن نے تحقیقات کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ انتخابی نتائج عوام کے مینڈیٹ کے حقیقی عکاس نہیں تھے تو پھر قومی اور صوبائی اسمبلیاں تحلیل کردی جائیں گی اور نئے عام انتخابات کرائے جائیں گے۔ دوسری صورت میں پی ٹی آئی اپنے الزامات واپس لے لے گی اور قومی اسمبلی میں اپنا جمہوری کردار ادا کرنے کے لیے واپس آجائے گی۔حکومت اور پی ٹی آئی میں مذاکرات کے کئی ادوار کے بعد سمجھوتا طے پایا تھا۔اس کی روشنی میں وزیراعظم میاں نواز شریف نے عدالتی کمیشن کے قیام کی منظوری دی تھی اور صدر ممنون حسین نے اس ضمن میں آرڈی ننس جاری کیا تھا۔