.

یمن بحران: پاکستان غیرجانبدار رہے،پارلیمان کی قرارداد

حکومتِ پاکستان یمن میں فوری جنگ بندی کے لیے فعال سفارتی کوششیں کرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی پارلیمان نے ایک قرارداد کی منظوری دی ہے جس میں حکومت پر زوردیا گیا ہے کہ وہ یمن میں جاری جنگ میں غیرجانبدار رہے تاکہ وہ اس تنازعے کے حل کے لیے فعال سفارتی کوششیں کرسکے۔

پارلیمان نے سعودی عرب کی جانب سے یمن میں حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف فوجی مہم میں پاکستان کی شمولیت کے لیے تقاضے کو مسترد کردیا ہے اور وزیراعظم نواز شریف کی حکومت پر زوردیا ہے کہ وہ یمن میں جاری لڑائی کے بات چیت کے ذریعے جلد سے جلد خاتمے کے لیے اپنی کوششیں تیز کردے۔قرار داد میں یمن کے تمام متحارب فریقوں پر زوردیا گیا ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو پُرامن طریقے سے طے کریں۔

پاکستان کی پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ اور ایوان زیریں قومی اسمبلی کے گذشتہ سوموار سے جاری مشترکہ اجلاس میں یمن میں جاری بحران پر بحث کی جارہی تھی۔ حزب اقتدار اور اختلاف سے تعلق رکھنے والے بہت سے ارکان نے اس مسئلے پر اظہار خیال کیا ہے۔اس بحث کے بعد پارلیمان نے جمعہ کو پانچویں روز متفقہ طور پر اس قرار داد کی منظوری دی ہے۔

قرارداد میں اگرچہ حکومت پر زوردیا گیا ہے کہ وہ سعودی عرب کی قیادت میں یمن میں حوثیوں اور ان کے اتحادیوں کے خلاف جاری مہم کے لیے فوجی امداد سے گریز کرے لیکن اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان کو سعودی عرب کی علاقائی سالمیت اور خود مختاری کے تحفظ کے لیے اس کے شانہ بشانہ کھڑے ہونا چاہیے۔البتہ اس میں یہ واضح نہیں کیا گیا ہےکہ آیا پاکستان کسی مرحلے پر اپنے طور پر اس فوجی مہم میں شریک ہوگا یا نہیں۔

حکومت نے سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو یمن میں حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف فوجی اتحاد میں شمولیت کی دعوت یا درخواست کے بعد پارلیمان کا مشترکہ اجلاس طلب کیا تھا۔اخباری اطلاعات کے مطابق سعودی عرب نے پاکستان سے یمن میں جاری مہم کے لیے لڑاکا طیارے ،جنگی بحری جہاز اور فوجی دستے طلب کیے تھے۔

قرارداد میں سعودی عرب کی غیر متزلزل حمایت کا اظہار کیا گیا ہے اور ارکان پارلیمان نے قرارداد کی اس شق سے اتفاق کیا ہے کہ پاکستان الحرمین الشریفین کی علاقائی سالمیت کو درپیش کسی خطرے یا اس کی کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں سعودی عرب اور اس کے عوام کے ساتھ کھڑا ہوگا۔

اس میں مزید کہا گیا ہے کہ یمن میں جاری جنگ فرقہ وارانہ نوعیت کی نہیں ہے لیکن اس بات کے امکانات موجود ہیں کہ یہ فرقہ وارانہ شکل اختیار کرسکتی ہے اور پھر اس کے پاکستان سمیت پورے خطے کے لیے سنگین منفی مضمرات ہوسکتے ہیں۔اس میں حکومت پر زوردیا گیا ہے کہ وہ یمن میں فوری جنگ بندی کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) سے رجوع کرنے سمیت کوششیں کرے۔

پاکستانی پارلیمان نے یمن میں انسانی اور سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور ارکان نے تنازعے کے شکار یمنی عوام کو ریلیف دلانے کے لیے تمام کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے خطے کی سکیورٹی اور استحکام کو متعدد دہشت گرد گروپوں اور غیر ریاستی عناصر سے لاحق خطرات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور حکومتِ پاکستان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے خلیج تعاون کونسل سمیت خطے کے ممالک سے دوستانہ تعلقات اور تعاون میں اضافہ کرے۔