.

القاعدہ کی بھارتی شاخ کے دو لیڈر ڈرون حملے میں ہلاک

پاکستان کے شمال مغربی پہاڑی علاقے میں ہلاکتوں کی تین ماہ کے بعد تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے شمالی مغربی قبائلی علاقے میں جنوری کے اوائل میں امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے کے میزائل میں القاعدہ کی بھارتی شاخ کے دو لیڈر ہلاک ہوگئے تھے۔

القاعدہ کے ایک ترجمان اسامہ محمود نے اتوار کو ایک آڈیو پیغام جاری کیا ہے جس میں تین ماہ سے زیادہ عرصے کے بعد شمالی وزیرستان میں اپنے دو لیڈروں احمد فاروق اور قاری عمران کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔احمد فاروق گروپ کے نائب سربراہ تھے اور قاری عمران افغان امور کے ذمے دار تھے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ فاروق کا حقیقی نام راجا سلیمان تھا اور وہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے گریجوایٹ تھے۔قاری عمران کا حقیقی نام ہدایت اللہ تھا اور وہ پاکستان کے وسطی شہر ملتان سے تعلق رکھتے تھے۔

ترجمان اسامہ محمود نے پاکستان آرمی کے شمالی وزیرستان میں طالبان اور القاعدہ کے جنگجوؤں کے خلاف آپریشن ضربِ عضب پر بھی تنقید کی ہے اور الزام عاید کیا ہے کہ ''یہ آپریشن امریکی فورسز کی نگرانی میں کیا جارہا ہے۔آرمی کی امریکی ڈرونز اور جیٹ طیاروں کی مدد حاصل ہے۔پاکستان آرمی امریکا کو اہداف سے متعلق انٹیلی جنس معلومات فراہم کررہی ہے اور وہ ڈرونز کے ذریعے ان کو نشانہ بناتا ہے''۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکا کے ڈرون حملوں میں ان کے گروپ کے قریباً پچاس ارکان ہلاک ہوچکے ہیں۔پاکستانی حکام نے اس آڈیو کے حوالے سے فوری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

پاکستان کے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں امریکی سی آئی اے کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں کے گذشتہ ایک عشرے کے دوران میزائل حملوں میں القاعدہ ،طالبان اور دوسرے جنگجو گروپ کے بیسیوں ارکان ہلاک ہوچکے ہیں۔تاہم ان ڈرون حملوں میں عام شہریوں کی بھی سیکڑوں کی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہے جس کی وجہ سے پاکستانی حکومت کو تنقید کا سامنا رہا ہے اور ان حملوں کے خلاف ملک کے شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے جاتے رہے ہیں۔

نیو امریکا فاؤنڈیشن کے انٹرنیشنل سکیورٹی پروگرام کی ایک رپورٹ کے مطابق سنہ 2004ء کے بعد سی آئی اے نے پاکستان کے شمال مغربی علاقوں میں قریباً چار سو ڈرون حملے کیے ہیں۔ان میں زیادہ ترحملے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں کیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ القاعدہ کے سربراہ ڈاکٹر ایمن الظواہری نے گذشتہ سال ستمبر میں برصغیر پاک وہند میں اپنے گروپ کی شاخ کے قیام کا اعلان کیا تھا لیکن عراق اور شام میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے احیاء اور میدان جنگ میں کامیابیوں کے بعد القاعدہ پس منظر میں چلی گئی ہے اور پاکستان اور افغانستان میں بھی بعض جنگجو گروپوں نے خود کو داعش سے وابستہ کر لیا ہے جس سے خود طالبان اور القاعدہ کے لیے خطرات پیدا ہوچکے ہیں۔