.

پاکستان تزویراتی شراکت داروں کو تنہا نہیں چھوڑے گا

یمنی صدر ہادی کی حکومت بحال ہونی چاہیے،حوثی مذاکرات کی میز پر آئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے دوست ممالک اور تزویراتی شراکت داروں کو مشکل کی گھڑی میں تنہا نہیں چھوڑے گا۔انھوں نے یمن میں صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت کو بحال کرنے پر زور دیا ہے اور حوثی باغیوں سے کہا ہے کہ وہ بحران کے حل کے لیے مذاکرات کی میز پر آئیں۔

انھوں نے یہ بات سوموار کی شام یمن کی صورت حال سے متعلق ایک مختصر پالیسی تقریر میں کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ پارلیمان میں جمعہ کو منظور کردہ قرارداد کی بعض میڈیا ذرائع میں غلط تعبیر وتشریح کی وجہ سے ہمارے بعض عرب دوستوں میں غلط فہمیاں پیدا ہوئی ہیں۔اسی وجہ سے میڈیا میں جن قیاس آرائیوں کا اظہار کیا گیا ہے،ان کا ہم نے جواب نہیں دیا۔انھوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہے اور اس کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کا تحفظ کرے گا۔

انھوں نے کہا کہ ''ہم خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ ان کی مایوسی ہماری پارلیمان کے مؤقف کی غلط تشریح کا نتیجہ ہے۔ہماری پالیسی کے بارے میں کسی کو کوئی شک نہیں ہونا چاہیے،ہم دوستوں کو تنہا نہیں چھوڑتے ہیں''۔

میاں نواز شریف نے کہا کہ پاکستان کا اس بات میں پختہ یقین ہے کہ صدر منصور ہادی کی حکومت یمن میں امن اور استحکام کے لیے اہم ثابت ہوسکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ صورت حال کی نگرانی کے لیے ہم نے سعودی عرب کے ساتھ پہلے ہی روابط بڑھا دیے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ''پارلیمان نے واضح الفاظ میں اس عزم کا اعادہ کیا تھا کہ سعودی عرب کی علاقائی خود مختاری کی کسی بھی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ہمارا یہ وعدہ ہے اور ہم یہ وعدہ اس کے باوجود کررہے ہیں کہ ہماری مسلح افواج وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب میں مصروف ہیں''۔

انھوں نے کہا :''میں نے ایرانی وزیرخارجہ سے گذشتہ جمعرات کو ملاقات کے دوران بھی ان پر یہ بات واضح کی تھی کہ حوثی باغی پورے خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔میں نے ان پر زوردیا تھا کہ ایران حوثی باغیوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کرے''۔

پاکستان کی پارلیمان نے جمعہ کو متفقہ طور پر منظور کردہ قرار داد میں حکومت پر زوردیا تھا کہ وہ یمن میں جاری بحران میں غیر جانبدار رہے اور سعودی عرب کی قیادت میں حوثی باغیوں کے خلاف فوجی اتحاد میں شامل نہ ہو بلکہ اس بحران کے حل کے لیے سفارتی کوششیں کرے۔تاہم اس قرار داد میں سعودی عرب کی غیر متزلزل حمایت کا اظہار کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ پاکستان الحرمین الشریفین کا دفاع کرے گا اور سعودی عرب کی علاقائی سالمیت اور خود مختاری پر کوئی آنچ نہیں آنے دے گا۔