.

منی لانڈرنگ کیس:الطاف حسین سے 5 گھنٹے تک تفتیش

لندن پولیس نے بیان ریکارڈ کرنے کے بعد ضمانت میں جولائی تک توسیع کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لندن پولیس نے پاکستان کی تشدد پسند لسانی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ ( ایم کیو ایم) کے خود ساختہ جلا وطن قائد الطاف حسین سے منی لانڈرنگ کیس کے سلسلے میں ساڑھے پانچ گھنٹے تک پوچھ تاچھ کی ہے اور اس کے بعد ان کی ضمانت میں جولائی 2015ء تک توسیع کردی ہے۔

الطاف حسین لندن کے شمال مغربی علاقے میں واقع اپنی قیام گاہ سے منگل کی صبح مقامی وقت کے مطابق صبح دس بجے وسطی لندن میں واقع پولیس تھانے میں پہنچے تھے۔ایم کیو ایم کے دو سینیر رہ نما بابر غوری اور فاروق ستار سمیت رابطہ کمیٹی کے دوسرے ارکان بھی ان کے ہمراہ تھے۔تفتیش مکمل ہونے کے بعد وہ ان کارکنوں اور رہ نماؤں کی معیت میں واپس روانہ ہوگئے۔اس موقع پر انھوں نے کہا کہ انھیں برطانیہ کے عدالتی نظام پر مکمل اعتماد ہے۔انھوں نے اپنے کارکنوں کو تفتیشی عمل کے دوران پُرامن رہنے کی ہدایت کی ہے۔

پولیس اسٹیشن میں تفتیشی افسروں نے الطاف حسین نے منی لانڈرنگ کیس کے حوالے سے ساڑھے پانچ گھںٹے تک بیان ریکارڈ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق وہ اپنے وکلاء کے مشورے کے مطابق ہر سوال پر ''نوکمنٹس'' کہتے رہے ہیں۔گویا انھوں نے پولیس افسروں کے سوالوں کو کوئی سیدھا جواب نہیں دیا ہے۔ لندن پولیس کافی شواہد کی بنیاد پر ان کے خلاف فرد الزام عاید کر سکتی تھی لیکن لگتا ہے کہ تفتیشی افسر شواہد سے فی الحال مطمئن نہیں ہوئے اور انھوں نے ایم کیو ایم کے سربراہ کو ضمانت پر رہا کردیا ہے۔

اگر ایم کیو ایم کے قائد پر منی لانڈرنگ کے جرم پر فرد الزام عاید کردی جاتی تو انھیں پھر پولیس اسٹیشن ہی میں رات گزارنا تھی اور انھیں آیندہ چوبیس گھنٹے کے دوران ویسٹ منسٹر میجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا جانا تھا۔ میجسٹریٹ کی عدالت انھیں ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا اختیار رکھتی ہے اور اس دوران ان کے خلاف تفتیش جاری رہے گی۔

واضح رہے کہ لندن کی میٹرو پولیٹن پولیس نے جولائی 2013ء میں ایم کیو ایم کے سربراہ کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزام میں تحقیقات شروع کی تھی اور انھیں 3 جون 2014ء کو گرفتار کیا گیا تھا۔انھیں چار روز کے بعد ضمانت پر رہا کردیا گیا تھا۔ان کی ضمانت میں جولائی 2014ء اور پھر 3 دسمبر 2014ء کو دو مرتبہ توسیع کی گئی تھی اور یہ ضمانتی مدت آج 14 اپریل کو ختم ہوگئی تھی۔

قبل ازیں یکم اپریل کو لندن پولیس نے ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے رکن اور سینیر رہ نما محمد انور کو بھی منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں گرفتار کیا تھا اور ان سے دس گھنٹے تک تھانے میں تفتیش کی تھی۔

سنہ 2013ء میں لندن میٹرو پولیٹن پولیس نے الطاف حسین کی قیام گاہ پر چھاپہ مار کارروائی کے دوران وہاں سے نقد رقوم برآمد کرنے کی تصدیق کی تھی۔پولیس کے انسداد دہشت گردی یونٹ نے ایم کیو ایم کے مقتول رہ نما ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں الطاف حسین کی قیام گاہ اور دفتر پر 6 دسمبر 2012ء کو چھاپہ مارا تھا۔

اس کے بعد لندن کے شمالی علاقے میں واقع متعدد مکانوں میں 18 جون 2013ء کو چھاپہ مار کارروائیاں کی گئی تھیں اور ان کارروائیوں کے دوران بھاری رقوم برآمد کی گئی تھیں۔تب ایم کیو ایم کے سرکردہ رہ نما ڈاکٹر فاروق ستار نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے لندن میں چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران نقد رقوم برآمد ہونے کی تصدیق کی تھی۔اب برآمد ہونے والی انہی رقوم کی بنیاد پر ایم کیو ایم کی قیادت کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزامات میں تحقیقات کی جارہی ہے اور ابھی یہ مکمل نہیں ہوئی ہے۔