پاکستان: بیلسٹک میزائل غوری کا کامیاب تجربہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان نے بیلسٹک میزائل غوری کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔یہ میزائل جوہری اور روایتی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت کا حامل ہے اور 1300 کلومیٹر تک مار کر سکتا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ بیان کے مطابق آرمی کی اسٹریٹجک فورسز کمانڈ (اے ایس ایف سی) کے تزویراتی میزائل گروپ نے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے غوری میزائل کا تجربہ کیا ہے۔اس کا مقصد اس کے مختلف ڈیزائن اور فنی پیرامیٹرز اور اے ایس ایف سی کی آپریشنل تیاریوں کی جانچ کرنا تھا۔

غوری میزائل کے تجربے کے وقت اسٹریٹجک پلانز ڈویژن کے سینیر عہدے دار ،تزویراتی اداروں سے وابستہ فورسز ،سائنس دان اور انجنئیرز بھی موجود تھے۔یہ تجربہ کسی نامعلوم مقام پر کیا گیا ہے۔

صدر پاکستان ممنون حسین ،وزیراعظم میاں نواز شریف اور اسٹریٹجک پلانز ڈویژن کے ڈائریکٹر جنرل ،لیفٹیننٹ جنرل زبیر محمود حیات نے غوری میزائل کے کامیاب تجربے پر سائنس دانوں ،انجنئیروں اور تزویراتی اداروں کے عملہ کو مبارک باد دی ہے اور اس کو پاکستان کی سد جارحیت کی صلاحیت میں اضافے کی جانب اہم قدم قرار دیا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل زبیر محمود حیات نے اسٹریٹیجک فورسز کے تربیتی عمل کے دوران شاندار معیار پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان اپنی دفاعی اور جوہری سد جارحیت کی صلاحیت پر فخر کر سکتا ہے۔

پاکستان نے چند ہفتے قبل بیلسٹک میزائل شاہین سوم کا کامیاب تجربہ کیا تھا جو ستائیس سو کلومیٹر تک مار کرسکتا ہے۔پاکستان نے گذشتہ سال شاہین اوّل اور شاہین دوم میزائلوں کے کامیاب تجربات کیے تھے۔شاہین دوم ڈیڑھ ہزار کلومیٹر تک جوہری اور روایتی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

واضح رہے کہ امریکا کے ایک تھنک ٹینک کی جانب سے حال ہی میں جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان تیزی سے ترقی کرتے ہوئے جوہری پروگرام کا حامل ہے اور وہ سنہ 2020ء تک دو سو تک جوہری ڈیوائسز اور ہتھیار تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں