پاک آرمی کا اسپیشل ڈویژن چینی ورکروں کا تحفظ کرے گا

پاکستان نے چین کا تب ساتھ دیا،جب وہ تنہا تھا:صدرجین پنگ کا پارلیمان سے خطاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

حکومتِ پاکستان نے ملک بھر میں مختلف ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والے چینی شہریوں کے تحفظ کی ذمے داری آرمی کے ایک خصوصی سکیورٹی ڈویژن کو سونپنے کی منظوری دے دی ہے۔

صدر پاکستان ممنون حسین نے اسلام آباد میں چینی صدر شی جین پنگ کو ون آن ون ملاقات کے دوران بتایا ہے کہ ''آرمی نے چینی انجنئیروں ، پراجیکٹ ڈائریکٹروں،ماہرین اور چین کے تعاون سے مکمل کیے جانے والے مختلف منصوبوں پر کام کرنے والے ورکروں کے تحفظ کے لیے ایک خصوصی سکیورٹی ڈویژن تشکیل دے دیا ہے''۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل، میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے اس فیصلے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ آرمی یونٹوں کے علاوہ رینجرز کے اہلکار بھی اس سکیورٹی پلان کا حصہ ہوں گے۔

عسکری ذرائع کے مطابق پاکستان میں ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والے چینی شہریوں کے تحفظ کے لیے قریباً دس ہزار فوجیوں پر مشتمل ڈویژن تشکیل دیا جائے گا۔ایک دوستارہ سینیر فوجی افسر اس سکیورٹی ڈویژن کا کمان دار ہوگا اور وہ براہ راست جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) راول پنڈی کو رپورٹ کرے گا۔ان میں پانچ ہزار فوجیوں کا تعلق پاکستان آرمی کے اسپیشل سروسز گروپ سے ہوگا۔ انھیں سکیورٹی اور انسداد دہشت گردی کی خصوصی تربیت دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق چینی صدر نے پاکستانی قیادت کے ساتھ بات چیت کے دوران یہاں کام کرنے والے چینی پیشہ ور افراد کی سکیورٹی کا مسئلہ اٹھایا تھا اور انھیں پاکستان کی جانب سے اس ضمن میں فوری اقدام سے آگاہ کردیا گیا ہے۔

چینی صدر شی جین پنگ نے منگل کو پاکستان کی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا ہے۔انھوں نے اپنی تقریر میں دونوں ملکوں کے درمیان تاریخی دوستانہ تعلقات کو سراہا اور کہا کہ اسلام آباد بیجنگ کے ساتھ اس وقت کھڑا ہوا تھا جب وہ عالمی منظرنامے میں بالکل تنہا تھا۔

انھوں نے آغاز میں چین کے ایک ارب تیس کروڑ عوام کی جانب سے پاکستان کے برادر عوام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔انھوں نے کہا کہ ''مشکل کی گھڑی میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں اور انھوں نے قدرتی آفات کے موقع پر ایک دوسرے کو مدد کی پیش کش کی ہے''۔

شی جین پنگ نے کہا:''پاکستان پہلا ملک ہے جس کا میں اس سال سب سے پہلے دورہ کررہا ہوں اور صدر کی حیثیت سے میرا پاکستان کا یہ پہلا دورہ بھی ہے لیکن پاکستان میرے لیے کوئی غیر شناسا ملک نہیں ہے۔اس نے عظیم قربانیاں دی ہیں''۔

چینی صدر نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور کہا ہے کہ اس نے دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی جنگ میں دلیرانہ کردار کا مظاہرہ کیا ہے اور وہ اس جنگ میں فرنٹ لائن پر ہے۔انھوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مدد کا اعادہ کیا اور اس کے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کی تعمیروترقی کے لیے امداد دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔

اںھوں نے چین کی جانب سے پاکستان کی خود مختاری ،علاقائی سالمیت اور قومی وقار کے تحفظ کے لیے بھرپور حمایت کا یقین دلایا ہے۔پاکستان اور چین کے تاریخی تعلقات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ''پاکستانی بھائی اکثر پاک چین دوستی کو ہمالیہ سے بلند ،سمندروں سے گہری اور شہد سے میٹھی قرار دیتے ہیں۔دوسری جانب چینی عوام پاکستانی عوام کو اچھے دوست ،اچھے شراکت دار اور اچھے بھائی قرار دیتے ہیں''۔

صدر شی جین پنگ کا کہنا تھا کہ پاکستان پہلا ملک تھا جس نے چین کو سب سے پہلے تسلیم کیا تھا اور بیجنگ کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کیے تھے۔انھوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کو علاقائی اور بین الاقوامی امور کے حوالے سے تزویراتی کمیونیکشن کو برقرار رکھنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین افغانستان میں پاکستان کے تعمیری کردار کی حمایت کرتا ہے۔

چینی صدر اور ان کی اہلیہ پاکستان کے دو روزہ دورے کے بعد وطن واپس روانہ ہوگئے ہیں۔صدر ممنون حسین نے ان کے اعزاز میں ایوان صدر میں ظہرانہ دیا۔انھوں نے صدر جین پنگ کو ملک کے سب سے اعلیٰ سول ایوارڈ نشانِ پاکستان سے نوازا ہے۔

سوموار کو ان کے دورے کے پہلے روز پاکستان اور چین کے درمیان اکنامک کوریڈور (اقتصادی راہ داری) سمیت مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون سے متعلق اکاون سمجھوتوں اور معاہدوں پر دستخط کیے گئے تھے۔چین پاکستان میں مجموعی طور پر چھیالیس ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کررہا ہے۔اس سے مختلف شعبوں میں متعدد ترقیاتی منصوبے مکمل کیے جائیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں