.

آرمی چیف ،وزیراعظم جمعرات کو الریاض جائیں گے

سعودی قیادت سے یمن بحران کے تناظر میں تبادلہ خیال کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف کے زیر صدارت اسلام آباد میں اعلیٰ سطح کے اجلاس میں یمن کی صورت حال اور اس تناظر میں سعودی عرب کے ساتھ ممکنہ فوجی تعاون کے حوالے سے غور کیا گیا ہے۔

اس اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ وزیراعظم میاں نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف جمعرات کو ایک روزہ دورے پر الریاض جائیں گے اور وہ یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف سعودی عرب کی قیادت میں آپریشن فیصلہ کن طوفان میں پاکستان کے غیر جانبدار رہنے سے متعلق پارلیمان کی قرارداد پر سعودی قیادت کے تحفظات کو دور کرنے کی کوشش کریں گے۔

وزیردفاع خواجہ محمد آصف اور خارجہ امور کے لیے وزیراعظم کے خصوصی معاون طارق فاطمی بھی ان کے ہمراہ ہوں گے۔سرکاری ذرائع کے مطابق اجلاس میں محکمہ خارجہ کے اعلیٰ عہدے داروں اور فوجی قیادت نے بھی شرکت کی ہے اور وزیراعظم نے انھیں اپنے الریاض کے اس نئے دورے کے حوالے سے اعتماد میں لیا ہے۔

میاں نواز شریف نے اجلاس کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے سعودی عرب کی جانب سے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف فضائی حملے روکنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور کہا ہے کہ اس سے تنازعے کے پُرامن حل کی راہ ہموار ہوگی۔

وزیراعظم کا گذشتہ دو ماہ میں سعودی عرب کا یہ دوسرا دورہ ہوگا۔اس سے پہلے انھوں نے 3 مارچ کو سعودی عرب کا دورہ کیا تھا اور خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے ساتھ ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات سمیت دفاعی شعبے میں تعاون بڑھانے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا تھا۔

تاہم پاکستان سعودی عرب کی قیادت میں حوثی باغیوں کے خلاف تشکیل پانے والے دس ملکی اتحاد کا حصہ نہیں بنا تھا اور اس کی پارلیمان نے غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا تھا جس کی وجہ سے سعودیوں میں پاکستان کے بارے میں شکر رنجی پیدا ہوگئی تھی اور وزیراعظم کو سعودی قیادت کی غلط فہمیوں کے ازالے کے لیے نشری تقریر کی شکل میں وضاحتی بیان جاری کرنا تھا۔

اس بیان میں انھوں نے اس عزم کا اعادہ کیا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کی علاقائی سالمیت اور خود مختاری پر کوئی آنچ نہیں دے گا اور اس کا دفاع کرے گا۔گذشتہ ہفتے وزیراعظم نے اپنے بھائی اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا ایک وفد سعودی عرب بھیجا تھا تاکہ سعودی عرب کی غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جا سکے۔