.

پاکستان میں طوفان باد و باراں نے 45 جانیں لے لیں

صوبہ خیرپختوانخوا میں سیکڑوں افراد زخمی اور بے گھر ہو گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے شمال مشرقی علاقوں میں اتوار کی شب آنے والے تیز ہوا اور بارش کے طوفان کے نتیجے میں کم از کم 45 افراد جاں بحق اور سو سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

طوفان باد و باراں سے سب سے زیادہ جانی نقصان صوبہ خیبر پختونخوا کے صدر مقام پشاور میں ہوا ہے جہاں ہونے والی ہلاکتیں 28 ہو گئی ہیں۔ چارسدہ میں آٹھ اور نوشہرہ میں چار افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاع ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں اور پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اچانک آنے والے طوفان اور آندھی کے نتیجے میں املاک کو نقصان پہنچا ہے اور درجنوں مکانوں کی چھتیں اڑ گئی ہیں۔

طوفان سے سڑکوں پر لگے سائن بورڈ، دیو قامت اشتہاری بورڈ، کھمبے اور ٹرانسفارمر گرنے سے کئی گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔ موٹر وے ٹول پلازہ کے بوتھ اڑ گئے ۔ کچے مکانوں کی دیواریں اور چھتیں گرنے سے بے شمار افراد ملبے تلے دب گئے جبکہ تینوں اضلاع کے کئی زیریں علاقے طوفانی بارش کے باعث زیرِ آب آ گئے۔

محکمۂ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ پشاور کو نشانہ بنانے والا طوفان 50 سے 100 کلومیٹر کے دائرے میں موجود ہے اور صوبے کے دیگر اضلاع کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔

محکمۂ موسمیات کے مطابق اتوار کی شام آنے والے طوفان کے زیرِ اثر 110 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں نے املاک کو زیادہ نقصان پہنچایا۔ حکام کے مطابق طوفان کی شدت میں کمی آئی ہے لیکن صوبے کے شمالی اضلاع میں اگلے تین سے چار گھنٹے تک طوفانی بارش کا امکان ہے.

پشاور پولیس کے ایک اعلیٰ افسر ڈاکٹر نیاز سعید نے خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کو بتایا ہے کہ طوفان سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 29 ہو گئی ہے جب کہ سو سے زائد افراد زخمی ہیں۔

حکام کے مطابق درخت اور کھبے گرنے سے بند ہونے والی شاہراہوں کے باعث امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ پیش آ رہی ہے جب کہ کئی علاقوں میں بجلی کی ترسیل کا نظام بھی متاثر ہوا ہے۔