وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق قومی اسمبلی سے باہر

الیکشن ٹرائبیونل کا این اے 125 اور پی پی 155 میں دوبارہ انتخاب کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان میں انتخابی عذرداریوں کی سماعت کرنے والے ایک الیکشن ٹرائبیونل نے وزیرریلوے خواجہ سعد رفیق کو سنہ 2013ء میں منعقدہ عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات ثابت ہونے پر نااہل قرار دے دیا ہے اور ان کے حلقہ نیابت این اے 125 اور صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 155 پر دوبارہ انتخاب کرانے کا حکم دیا ہے۔

خواجہ سعد رفیق لاہور کے اس حلقہ سے حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے اور انھیں وزارت ریلوے کا قلم دان سونپا گیا تھا۔ان کے مقابلے میں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی ) کے شکست خوردہ امیدوار حامد خان نے الیکشن ٹرائبیونل میں ان کی جیت کو چیلنج کیا تھا اور اپنی درخواست میں یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کے حق میں جعلی اور بوگس ووٹ ڈالے گئے تھے۔ انھوں نے الیکشن ٹرائبیونل سے یہ استدعا کی تھی اس حلقے سے خواجہ سعد رفیق کی جیت کو کالعدم قرار دے کر دوبارہ انتخاب کا حکم دیا جائے۔

جاوید رشید محبوبی کی سربراہی میں قائم الیکشن ٹرائبیونل فیصل آباد نے سوموار کو ان کی یہ درخواست منظور کر لی ہے اور اپنے ایک صفحے کے مختصر فیصلہ میں کہا ہے کہ ووٹوں سے بھرے تھیلوں کو تیز دھار آلے کی مدد سے کھولا گیا تھا اور ریکارڈ میں گڑ بڑ کی گئی تھی۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ٹرائبیونل کے مقرر کردہ مقامی کمیشن اور نادرا نے اس حلقے کے ریکارڈ کے معائنے کے بعد اپنی رپورٹس میں کہا تھا کہ ہر ووٹر نے اوسطاً چھے ووٹ ڈالے تھے۔

خواجہ سعد رفیق مئی 2013ء میں منعقدہ عام انتخابات میں لاہور کے اس حلقے سے 123416 ووٹ لے کر منتخب ہوئے تھے۔ان کے مد مقابل حامد خان نے 84495 ووٹ حاصل کیے تھے۔اسی حلقے سے وابستہ صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 155 سے مسلم لیگ نواز کے میاں نصیر احمد 63709 ووٹ لے کر منتخب ہوئے تھے۔ان کی جیت کو پی ٹی آئی کے شکست خوردہ امیدوار حافظ فرحت عباس نے چیلنج کیا تھا۔

واضح رہے کہ این اے 125 قومی اسمبلی کے ان چار حلقوں میں سے ایک ہے جہاں پی ٹی آئی کے شکست خوردہ امیدواروں نے مسلم لیگ نواز کے کامیاب امیداواروں کی جیت کو چیلنج کیا تھا اور انتخابی دھاندلیوں کی تحقیقات کے بعد ان حلقوں میں دوبارہ انتخاب کا مطالبہ کیا تھا۔

تین دوسرے حلقے این اے 110 (سیالکوٹ) این اے 122 (لاہور) اور این اے 154( لودھراں) ہیں۔ پی ٹی آئی نے ان چاروں حلقوں میں ووٹروں کے انگوٹھوں کے نشان کی تصدیق کا مطالبہ کیا تھا اور اس کے قائد عمران خان نے اسلام آباد میں پارلیمان کے سامنے تین ماہ سے زیادہ عرصے تک مبینہ انتخابی دھاندلیوں کے خلاف احتجاجی دھرنا دیے رکھا تھا۔ان کے دھرنے کے خاتمے کے کوئی پونے پانچ ماہ کے بعد الیکشن ٹرائبیونل کا یہ فیصلہ آیا ہے۔پی ٹی آئی کے قائدین نے اس فیصلے کو اپنے لیے ایک بڑی فتح قرار دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں