.

سینیٹر ملک محمد رفیق رجوانہ گورنر پنجاب مقرر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صدر پاکستان ممنون حسین نے حکمراں جماعت مسلم لیگ نواز سے تعلق رکھنے والے سینیٹر ملک محمد رفیق رجوانہ کو صوبہ پنجاب کا گورنر مقرر کیا ہے۔

ملک رفیق رجوانہ پنجاب کے جنوب مغربی ضلع ملتان سے تعلق رکھتے ہیں۔وہ ایک تجربے کار پارلیمینٹرین ہیں اور وہ پاکستان مسلم لیگ نواز کے ٹکٹ پر پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ کے دو مرتبہ رکن منتخب ہوچکے ہیں۔وزیراعظم نواز شریف کی ان سے ملاقات کے بعد انھیں گورنر مقرر کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

پنجاب کے سابق گورنر چودھری محمد سرور حکومت سے اختلافات کے بعد جنوری میں مستعفی ہوگئے تھے جس کے بعد سے گورنر کا عہدہ خالی چلا آرہا تھا۔چودھری سرور نے مستعفی ہوتے وقت کہا تھا کہ انھوں نے یہ عہدہ قبول کرتے وقت بعض اہداف مقرر کیے تھے لیکن وہ ان کے حصول میں ناکام رہے ہیں۔وہ بعد میں عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوگئے تھے۔

رفیق رجوانہ نے پنجاب یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی تھی اور اپنے کیرئیر کا آغاز ایک جوڈیشیل آفیسر کی حیثیت سے کیا تھا۔وہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج بھی رہے تھے۔ بعد میں انھوں نے عدالتی ملازمت کو خیرباد کہہ کر وکالت کا پیشہ اختیار کر لیا تھا۔

وہ 1996ء میں لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن ملتان بنچ کے صدر منتخب ہوئے تھے۔وہ سنہ 1998ء میں سینیٹر محمد رفیق تارڑ کے ملک کا صدر منتخب ہونے کے بعد ان کی خالی کردہ نشست پر پہلی مرتبہ سینیٹ کے رکن بنے تھے۔وہ 2012ء میں دوسری مرتبہ پی ایم ایل این کے ٹکٹ پر پنجاب سے عام نشست پر سینیٹر منتخب ہوئے تھے۔

وہ سینیٹ کی خارجہ امور ،قانون ،انصاف اور انسانی حقوق ،حکومتی یقین دہانیوں ،قواعد وضوابط اور مراعات اور سینیٹ کی ہاؤس اینڈ ڈیولیوشن پراسیس کمیٹیوں کے رکن رہ چکے ہیں۔انھوں نے گورنر کے عہدے پر تقرر کے بعد کہا ہے کہ وہ صوبے کے عوام کی بہتری کے لیے اپنا بھرپو کردار ادا کریں گے۔