.

این اے 125: الیکشن ٹرائبیونل کا فیصلہ معطل

عدالتِ عظمیٰ نے خواجہ سعد رفیق کی درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عدالت عظمیٰ پاکستان نے لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 125 اور پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 155 پر الیکشن ٹرائبیونل کے دوبارہ انتخاب کرانے سے متعلق فیصلے کو معطل کردیا ہے۔

عدالتِ عظمیٰ کے جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہ میں قائم تین رکنی بینچ نے خواجہ سعد رفیق کی جانب سے دائر کردہ درخواست کی سوموار کو ابتدائی سماعت کے بعد الیکشن ٹرائبیونل کے فیصلے کو معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ٹرائبیونل کے فیصلےمیں یہ واضح نہیں ہے کہ وہ دھاندلی میں ملوّث تھے۔

انھوں نے کہا کہ ٹرائبیونل نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ صرف سات پولنگ اسٹیشنوں میں بے ضابطگیاں پائی گئی ہیں لیکن ان کا ان سے (سعد رفیق) سے کوئی تعلق نہیں ہے۔فاضل عدالت نے ان کا موقف سننے کے بعد ٹرائبیونل کے این اے 125 اور پی پی 155 میں دوبارہ انتخاب کرانے کے فیصلے کو معطل کردیا ہے اور درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی ہے۔عدالت نے ٹرائبیونل سے تمام ریکارڈ طلب کر لیا ہے اور مقدمے کی مزید سماعت چار ہفتے کے لیے ملتوی کردی ہے۔

مقدمے کی سماعت کے بعد خواجہ سعد رفیق نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم میرٹ پر کیس لڑیں گے اور ہمیں یقین ہے کہ ہمیں انصاف ملے گا''۔انھوں نے کہا کہ ''یہ میرے لیے بہت ہی تکلیف دہ امر تھا کہ مجھ پر بد دیانتی کا الزام عاید کیا گیا تھا۔مجھے امید ہے کہ اگر ہم نے کچھ غلط نہیں کیا تو پھر سچ کھل کر سامنے آجائے گا''۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران خان نے سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فاضل عدالت کے حکم کی ایک مختلف انداز میں تشریح کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ عدالت کا الیکشن ٹرائبیونل کے دوبارہ انتخاب کے فیصلے کو معطل کرنے کا حکم صرف ایک ماہ کے لیے ہے۔

انتخابی عذر داریوں کی سماعت کرنے والے الیکشن ٹرائبیونل فیصل آباد نے گذشتہ ہفتے وزیرریلوے خواجہ سعد رفیق کو سنہ 2013ء میں منعقدہ عام انتخابات میں دھاندلی اور بے ضابطگیوں کے الزامات ثابت ہونے پر اسمبلی سے باہر کردیا تھا اور ان کے حلقہ نیابت این اے 125 اور صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 155 پر دوبارہ انتخاب کرانے کا حکم دیا تھا۔

خواجہ سعد رفیق لاہور کے اس حلقہ سے حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے ۔ان کے مقابلے میں پاکستان تحریکِ انصاف کے شکست خوردہ امیدوار حامد خان نے الیکشن ٹرائبیونل میں ان کی جیت کو چیلنج کیا تھا اور اپنی درخواست میں یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کے حق میں جعلی اور بوگس ووٹ ڈالے گئے تھے۔ انھوں نے الیکشن ٹرائبیونل سے یہ استدعا کی تھی اس حلقے سے خواجہ سعد رفیق کی جیت کو کالعدم قرار دے کر دوبارہ انتخاب کا حکم دیا جائے۔

جاوید رشید محبوبی کی سربراہی میں قائم الیکشن ٹرائبیونل نے گذشتہ سوموار کو ایک صفحے کے مختصر فیصلہ میں کہا تھا کہ سات پولنگ اسٹیشنوں کے ووٹوں سے بھرے تھیلوں کو تیز دھار آلے کی مدد سے کھولا گیا تھا اور ریکارڈ میں گڑ بڑ کی گئی تھی۔ٹرائبیونل کے مقرر کردہ مقامی کمیشن اور نادرا نے اس حلقے کے ریکارڈ کے معائنے کے بعد اپنی رپورٹس میں کہا تھا کہ ان پوللنگ مراکز میں ہر ووٹر نے اوسطاً چھے ووٹ ڈالے تھے۔

خواجہ سعد رفیق مئی 2013ء میں منعقدہ عام انتخابات میں لاہور کے اس حلقے سے 123416 ووٹ لے کر منتخب ہوئے تھے۔ان کے مد مقابل حامد خان نے 84495 ووٹ حاصل کیے تھے۔اسی حلقے سے وابستہ صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 155 سے مسلم لیگ نواز کے میاں نصیر احمد 63709 ووٹ لے کر منتخب ہوئے تھے۔ان کی جیت کو پی ٹی آئی کے شکست خوردہ امیدوار حافظ فرحت عباس نے چیلنج کیا تھا۔

واضح رہے کہ این اے 125 قومی اسمبلی کے ان چار حلقوں میں سے ایک ہے جہاں پی ٹی آئی کے شکست خوردہ امیدواروں نے مسلم لیگ نواز کے کامیاب امیداواروں کی جیت کو چیلنج کیا تھا اور انتخابی دھاندلیوں کی تحقیقات کے بعد ان حلقوں میں دوبارہ انتخاب کا مطالبہ کیا تھا۔

تین دوسرے حلقے این اے 110 (سیالکوٹ) این اے 122 (لاہور) اور این اے 154( لودھراں) ہیں۔ پی ٹی آئی نے ان چاروں حلقوں میں ووٹروں کے انگوٹھوں کے نشان کی تصدیق کا مطالبہ کیا تھا اور اس کے قائد عمران خان نے اسلام آباد میں پارلیمان کے سامنے چار ماہ تک مبینہ انتخابی دھاندلیوں کے خلاف احتجاجی دھرنا دیے رکھا تھا۔