کراچی میں اسماعیلی برادری کی بس پر حملہ، 43 ہلاک

واردات کے بعد تمام حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستانی ذرائع ابلاغ کے توسط سے ملنے والے اطلاعات کے مطابق کراچی میں بدھ کے روز نامعلوم حملہ آوروں نے ایک بس کے اندر گھس کر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں کم از کم 43 افراد ہلاک ہو گئے۔ مرنے والوں کا تعلق اسماعیلی شیعہ برادری سے بتایا گیا ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ صفورا چورنگی کے علاقے میں پیش آیا۔ بتایا گیا ہے کہ حملہ آوروں کی تعداد ایک درجن کے لگ بھگ تھی جبکہ اسماعیلی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کو لے کر جانے والی اِس بس پر مسافروں کی تعداد ساٹھ سے لے کر ستّر تک تھی۔

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس واردات کے بعد تمام حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ مرنے والوں میں ایک درجن سے زائد خواتین بھی شامل ہیں۔

ایک نجی ٹی وی چینل کے مطابق اسماعیلی برادری کے یہ ارکان بس میں سوار ہو کر اپنی 'مسجد' کی جانب جا رہے تھے، جب موٹر سائیکلوں پر سوار اور خود کار ہتھیاروں سے مسلح نقاب پوش حملہ آوروں نے بس کو روکا اور پہلے باہر سے اِس پر فائرنگ کی اور پھر اندر گھُس کر فائرنگ شروع کر دی۔

دیگر رپورٹوں کے مطابق حملہ آوروں نے اندھا دھند فائرنگ کے بعد اچھی طرح سے تسلی کی کہ کوئی بچ تو نہیں گیا۔ بتایا گیا ہے کہ اگرچہ اس بس میں صرف باون مسافروں کی گنجائش تھی تاہم اِس پر گنجائش سے کہیں زیادہ تعداد میں مسافر سوار تھے اور یہ کہ اُن کی ایک بڑی تعداد اسماعیلی برادری سے تعلق رکھنے والے شہریوں پر مشتمل تھی۔

ان شیعہ مسلمانوں کی ایک نمائندہ تنظیم اسماعیلی نیشنل کونسل کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ یہ بس اسماعیلی کمیونٹی کے ویلفیئر بورڈ کی ملکیت تھی اور یہ کہ مرنے والوں میں بچے بھی شامل ہیں۔ مزید یہ کہ مرنے اور زخمی ہونے والوں کو ایک نجی ہسپتال میمن میڈیکل سینٹر میں پہنچا دیا گیا ہے۔

پاکستان میں حالیہ برسوں میں فرقہ وارانہ کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان کی تقریباً دو سو ملین کی آبادی میں سے شیعہ مسلمانوں کی تعداد بیس فیصد کے لگ بھگ ہے۔

تاحال کسی نے بھی اس واردات کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے تاہم حالیہ برسوں کے دوران طالبان نے متعدد شیعہ مساجد کو دہشت گردانہ حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔

پاکستان فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کراچی میں بس حملے کے باعث سری لنکا کا دورہ منسوخ کر دیا ہے۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ 'آئی ایس پی آر' کے مطابق جنرل راحیل شریف کراچی میں بس پر دہشت گردوں کے حملے کے باعث سری لنکا کا 3روزہ دورہ منسوخ کر دیا ہے۔

درایں اثناء وزیر اعلیٰ سندھ نے سانحہ صفورا چورنگی پر انتہائی غم و غصے کا اطہار کرتے ہوئے ایس پی اور ایس ایچ او صفورا چورنگی کو معطل کر دیا اور قاتلوں‌ کی جلد گرفتاری کا حکم دے دیا.

وزیر اعظم پاکستان میاں‌ محمد نواز شریف نے واقعہ کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے وزیر داخلہ کو سندھ حکومت سے رابطے کی ہدایت کی ہے. وزیر اعلیٰ‌ پنجاب میاں‌ محمد شہباز شریف، امیر جماعت اسلامی سراج الحق، چودھری پرویز الٰہی، چودھری شجاعت حسین، وزیر داخلہ چودھری نثار، ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین اور دیگر سیاستدانوں اور دینی رہنماوں‌ کی جانب سے سانحہ کی شدید الفاظ میں‌ مذمت کی۔

ادھر وزیر داخلہ چودھری نثار کا ڈی جی رینجرز سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔ ڈی جی رینجرز نے بس پر فائرنگ کے واقعے کی تفصیلی بریفنگ دی۔ واقعے پر ردعمل ظاہر کرنے کے لئے کراچی میں شیعہ کیمونٹی کے تین دن جبکہ حکومت نے ایک روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں