.

را پاکستان میں دہشت گردی میں ملوّث ہے:سیکریٹری خارجہ

کراچی حملے میں داعش کو ملوّث قرار دینا قبل از وقت ہوگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے سیکریٹری خارجہ اعزازاحمد چودھری نے کہا ہے کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالسیس ونگ (را) پاکستان بھر میں دہشت گردی کی مختلف سرگرمیوں میں ملوّث ہے۔اس معاملے کو بھارت کے ساتھ سفارتی ذرائع سے متعدد مرتبہ اعلیٰ سطح پر اٹھایا گیا ہے۔

وہ جمعرات کو اسلام آباد میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کررہے تھے۔انھوں نے کراچی میں گذشتہ روز اسماعیلی برادری کی بس پر دہشت گردوں کے حملے کے تناظر میں یہ بات کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ اس حملے میں داعش کے ملوّث ہونے کے حوالے سے کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ ''سکیورٹی ایجنسیاں اس واقعے کی تحقیقات کررہی ہیں اور ایک پمفلٹ کی بنیاد پر داعش کو اس حملے میں ملوّث قرار نہیں دیا جاسکتا''۔کراچی میں اسماعیلی برادری کی بس پر فائرنگ کرنے والے مسلح حملہ آور اپنے پیچھے ایک خط چھوڑ گئے تھے اور اس میں خود کو داعش سے وابستہ قرار دیا تھا۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے الگ ہونے والے صوبہ خراسان نامی ایک دھڑے نے اس حملے کی ذمے داری قبول کی ہے۔یہ گروپ خود کو داعش سے وابستہ قرار دیتا ہے۔اس گروپ نے ٹویٹر پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا تھا کہ حملے میں تینتالیس افراد ہلاک ہو گئے تھے اور تیس سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔حملے میں زخمی دو افراد جمعرات کو چل بسے ہیں۔

سیکریٹری خارجہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑرہا ہے اور یہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔

قبل ازیں دفتر خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان نے افغانستان سے کہا ہے کہ وہ را کو اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہ دے۔

گذشتہ ہفتے پاکستان کی اعلیٰ فوجی قیادت نے بھی را پر ملک میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوّث ہونے کا الزام عاید کیا تھا۔جنرل ہیڈکوارٹرز راول پنڈی میں پاک آرمی کے کورکمانڈروں کی کانفرنس میں را کے پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا سنجیدگی سے نوٹس لیا گیا تھا۔