.

لاپتا شہری کہاں ہیں؟ پاکستان کا اسرائیل سے بالواسطہ استفسار

پاکستان اور اسرائیل کے درمیان براہ راست سفارتی تعلقات نہیں ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستانی حکومت اپنے سولہ [16] لاپتا شہریوں کی تلاش میں امریکا اور اردن کے سفارت خانوں کے ذریعے اسرائیل کی حکومت سے رابطے کر رہی ہے۔

پاکستانی پارلیمنٹ کے ایوان بالا [سینیٹ] میں خارجہ امور کے بارے میں وزیر اعظم کے مشیر سر تاج عزیز نے اے این پی سے تعلق رکھنے والے رکن شاہی سید کے توجہ دلاو نوٹس کے جواب میں پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی حکومت نے پاکستان میں امریکی سفارت خانے ، واشنگٹن اور اردن میں پاکستانی سفارت خانوں کے علاوہ اقوام متحدہ سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ ان 16 افراد کے بارے میں اسرائیل سے بات کریں ۔

اُنھوں نے کہا کہ اس بارے میں امریکا اور اقوام متحدہ کی طرف سے اس بات کا جواب آ گیا ہے کہ اسرائیلی حکام تک یہ بات پہنچا دی گئی ہے۔ تاہم اسرائیلی حکومت کی طرف سے ابھی تک اس سے متعلق جواب نہیں دیا گیا۔

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت کو اسرائیلی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی حالت کے بارے میں علم نہیں ہے کیونکہ اُن تک ابھی رسائی نہیں دی گئی اور نہ ہی یہ معلوم ہو سکا ہے کہ اُنھیں کن وجوہات کی بنا پر گرفتار کیا گیا ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے میں امریکا، اقوام متحدہ اور پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ رابطوں میں ہیں اور جو بھی پیش رفت سامنے آئی اس کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ پاکستان اور اسرائیل کے سفارتی تعلقات نہیں ہیں اور پاکستان نے اب تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا۔

یاد رہے کہ سنہ 2009 میں لبنان کے ساحل کے قریب جہاز ڈوب گیا تھا۔ جن میں ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں نکال لی گئیں تھیں جبکہ 16 افراد لاپتا ہو گئے تھے۔ تاہم کچھ عرصے بعد معلوم ہوا کہ یہ افراد اسرائیل کی جیل میں ہیں۔

سمندر میں ایک بحری جہاز ڈوبنے کے بعد اب اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ 16 پاکستانی قیدیوں کو اسرائیلی بحریہ نے بچا لیا تھا اور وہ اس وقت اسرائیل کی جیلوں میں قید ہیں۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ یہ ایک سنجیدہ انسانی معاملہ ہے اس لئے اسے ہم نے بالواسطہ طور پر اسرائیل سے اٹھایا ہے۔