.

پاکستانی حکام کا جعلی ڈگریاں بیچنے والی''فیکٹری'' پر چھاپہ

بھاری مشاہروں پرملازمتیں دینے والے بول ٹی وی نیٹ ورک کی ساکھ مجروح

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے حکام نے جعلی ڈگریوں کے دھندے میں مبینہ طور پر ملوّث نجی ٹیلی ویژن نیٹ ورک بول کی مادر انفارمیشن ٹیکنالوجی کی کمپنی ایگزیکٹ کے اسلام آباد اور اور کراچی میں واقع دفاتر پر چھاپہ مارا ہے اور اس کا ریکارڈز ،کمپیوٹر اور دوسرا مواد قبضے میں لے لیا ہے۔

ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر طاہر تنویر نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ اسلام آباد اور راول پنڈی میں واقع ایگزیکٹ کے دفاتر کو سربہ مہر کردیا گیا ہے اوراس کے بائیس ملازمین کو تحقیقات کے لیے حراست میں لے لیا گیا ہے۔

پاکستان کے وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں سوموار کو ''اصلی رقوم ،جعلی ڈپلومے :پاکستانی کمپنی ایگزیکٹ نے لاکھوں ڈالرز بٹور لیے'' کے عنوان سے اسٹوری شائع ہونے کے بعد ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

اس اسٹوری میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ آئی ٹی کمپنی دنیا بھر کے ایک سو چھبیس ممالک میں جعلی ڈگریوں کا کاروبار کررہی ہے۔وزیرداخلہ نے اس اسٹوری کے مندرجات کی مکمل تحقیقات کے بعد رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ حقائق واضح ہوسکیں اور یہ پتا چل سکے کہ یہ کمپنی پاکستان کی بدنامی کا باعث تو نہیں بن رہی ہے۔

ایگزیکٹ کے ملکیتی بول ٹیلی ویژن نیٹ ورک نے حالیہ مہینوں کے دوران بھاری مشاہروں پر پاکستان کے کئی معروف ٹی وی اینکروں اور صحافیوں کو ملازمتیں دی ہیں اور انھیں عام طور پر سابقہ ادارے سے تین گنا زیادہ تن خواہوں اور مراعات پر بھرتی کیا گیا ہے جس کی وجہ سے امریکی اخبار کی رپورٹ کو بڑی دلچسپی سے پڑھا گیا ہے اور اس پر سوشل میڈیا پر تبصروں اور تجزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

نیویارک ٹائمز کے اسلام آباد میں مقیم بیوروچیف ڈیکلان واش نے ایگزیکٹ کے بارے میں یہ تفصیلی رپورٹ تیار کی تھی اور اس میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس نے کئی آن لائن یونیورسٹیاں بنا رکھی ہیں لیکن عملاً ان کا کوئی وجود نہیں ہے۔ان کی ویب سائٹس کے ذریعے گاہکوں کو مختلف ڈپلوموں اور کورسز میں داخلوں کی جانب راغب کیا جاتا ہے۔ان ویب سائٹس پر اپ لوڈ کی گئی ویڈیوز میں اداکار نما پروفیسر اور طالب علم لوگوں کو بڑے دل کش اور پُرفریب انداز میں مختلف کورسز میں داخلہ لینے کی ترغیبات دیتے نظر آتے ہیں۔

ایف آئی اے کے ایک عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ اگر ایگزیکٹ پر لگائے گئے الزامات ثابت ہوگئے تو اس کے ذمے داروں کو پاکستان کے الیکٹرانک ٹرانزیکشن آرڈی ننس کے تحت سات سال قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کی صدائے بازگشت پاکستان کی پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ میں بھی منگل کو سنی گئی ہے اور چئیرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے یہ معاملہ مزید تحقیقات کے لیے ایوان کی متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردیا ہے۔

سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر اعتزاز احسن نے کہا کہ بول نیٹ ورک کے چئیرمین شعیب احمد شیخ کو اس معاملے میں اپنی وضاحت کا حق حاصل ہے۔یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے اور اس کی تحقیقات کی جانا چاہیے۔

ایگزیکٹ کا رد عمل

نیویارک ٹائمز کے بیورو چیف نے لکھا ہے کہ انھوں نے اپنی اسٹوری شائع کرنے سے قبل ردعمل کے لیے ایگزیکٹ سے رابطہ کیا تھا لیکن ان کا دعویٰ ہے کہ کمپنی نے انھیں کوئی جوابی ای میل نہیں بھیجی ہے اور نہ کوئی جواب دیا ہے بلکہ قانونی نوٹس ضرور بھیج دیا ہے۔

ایگزیکٹ نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں امریکی اخبار کی رپورٹ میں لگائے گئے الزامات کا کوئی براہ راست جواب تو نہیں دیا ہے بلکہ اپنے حریف پاکستانی میڈیا گروپ ایکسپریس پر اس تمام سازش کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ اس نے اخبار کے بیورو چیف کے ساتھ مل کر ایگزیکٹ کا کاروبار تباہ کرنے کی سازش کی ہے۔

اس میں ڈیکلان واش پر الزام عاید کیا گیا ہے کہ انھوں نے یک طرفہ اسٹوری شائع کی ہے اور اس کا موقف جاننے کی کوشش نہیں کی ہے۔ایگزیکٹ نے اپنی ویب سائٹ پر نیویارک ٹائمز کو بھیجا گیا قانونی نوٹس بھی اپ لوڈ کردیا ہے۔اس نے ایک مقامی ویب سائٹ پاک ٹی ہاؤس کو بھی ایک قانونی نوٹس بھیجا ہے جس نے سوشل میڈیا پر اس کمپنی کے خلاف مہم برپا کررکھی ہے۔

مذکورہ رپورٹ سامنے آنے کے بعد پاکستان کے صحافتی حلقے اب بول میں ملازمت اختیار کرنے والے سینیر اینکروں اور عامل صحافیوں کے مستقبل کے حوالے سے انہونے اور مزعومہ خدشات کا اظہار کررہے ہیں۔واضح رہے کہ گذشتہ ڈیڑھ ایک عشرے کے دوران پاکستان میں نجی تعلیمی اداروں کے مالکان ،پراپرٹی ڈیلروں ،سونے ،اشیائے خور ونوش کا کاروبار کرنے اور صابن اور گھی بنانے والے صنعت کاروں نے اپنے اپنے ٹیلی ویژن چینل قائم کیے ہیں یا وہ اخبارات کے مالک بن چکے ہیں۔

بول نیٹ ورک کے بارے میں سوشل میڈیا پر یہ کہا جارہا ہے کہ اس کی مادر کمپنی نے سب کو مات دے دی ہے اور وہ تعلیم فروشوں سے بھی بڑھ کر جعلی ڈگریوں کا دھندے میں ملوّث پائی گئی ہے اور اس سے حاصل ہونے والی رقوم ہی سے صحافیوں کو ماہانہ لاکھوں روپے تن خواہوں پر بھرتی کیا جارہا ہے،انھیں پرتعیش مراعات کی ترغیبات دی جارہی ہیں اور سہانے مستقبل کے خواب دکھائے جارہے ہیں لیکن ''ابھی اڑنے بھی نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے'' کے مصداق اب بول ٹی وی چینل کی ساکھ اورمستقبل ہی داؤ پر لگ گیا ہے۔اس چینل میں ملازمتیں اختیار کرنے والے صحافیوں کے مطابق اس کی نشریات کا یکم رمضان المبارک سے آغاز کیا جائے گا۔