.

پاک فوج کی دتہ خیل میں بمباری، 13 دہشت گرد ہلاک

فورسز کی شوال کے علاقے کی جانب پیش قدمی: آئی ایس پی آر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کی تحصیل دتہ خیل میں جیٹ طیاروں سے بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں 13 دہشت گرد مارے گئے ہیں۔

سرکاری ریڈیو نے پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے حوالے سے اپنے نشریے میں بتایا ہے کہ شمالی وزیرستان میں بمباری سے 13 دہشت گرد ہلاک اور ان کے پانچ ٹھکانے مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔

خیال رہے کہ یہ علاقہ پاک افغان سرحد کے قریب واقع ہے اور مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں عظیم رہنما فقیر ایپی کی زیارت بھی واقع ہے۔اطلاعات کے مطابق سیکیورٹی فورسز کے اہلکار دتہ خیل سے آگے شوال کے علاقے کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں۔

شوال کا علاقہ گھنے جنگلات پر مشتمل ہے۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ شمالی وزیرستان کے علاقوں میرانشاہ، میر علی اور دتہ خیل میں جاری فوجی آپریشن کے بعد سے بیشتر شدت پسند اسی علاقے کی جانب روپوش ہوئے تھے۔

گذشتہ چند روز کے دوران اس علاقے میں امریکی جاسوس طیاروں نے بھی دو الگ الگ حملے کیے تھے۔ان میں آٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ سے ان ڈرون حملوں کی مذمت کی تھی۔

شمالی وزیرستان میں پاک فوج نے طالبان جنگجوؤں کے خلاف گذشتہ سال جون میں آپریشن ضرب عضب شروع کیا تھا جس سے دس لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوگئے تھے۔اب ان کی مرحلہ وار آبائی علاقوں کو واپسی شروع ہوچکی ہے۔اس آپریشن میں فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق تین ماہ پہلے تک 1200 شدت پسند مارے جا چکے تھے۔اس کے بعد ایسی کوئی اطلاع فراہم نہیں کی گئی کہ دونوں جانب سے اب تک کل کتنی ہلاکتیں ہوئی ہیں اور کتنا علاقہ شدت پسندوں سے بازیاب کروا لیا گیا ہے ۔