.

ڈاکٹر مرسی کی سزائے موت پر تنقید، مصر کا پاکستان سے احتجاج

قاہرہ میں پاکستانی سفارت خانے کے ناظم الامور کی وزارت خارجہ طلبی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر نے قاہرہ میں متعیّن پاکستانی سفارت خانے کے ناظم الامور کو طلب کیا ہے اور ان سے برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی کو سنائی گئی سزائے موت کو پاکستان کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنانے پر احتجاج کیا ہے۔

مصری وزارت خارجہ نے منگل کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ''مصر اپنے داخلی امور میں ایسی کسی قسم کی مداخلت کی مذمت کرتا ہے جس سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں رخنہ آسکتا ہو ''۔ناظم الامور محمد اعجاز کو سوموار کو مصری وزارت خارجہ میں طلب کیا گیا تھا اور اس حوالے سے منگل کو بیان جاری کیا گیا ہے۔

مصر کی ایک عدالت نے 16 مئی کو برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی اور ان کی سابقہ جماعت اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے دوسرے ایک سو پانچ مدعاعلیہان کو سنہ 2011ء کے اوائل میں ایک جیل کو توڑنے کے مقدمے میں سزائے موت سنائی تھی۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں ،امریکا ،یورپی یونین اور پاکستان نے اس عدالتی فیصلے پر کڑی تنقید کی ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے 19 مئی کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا تھا کہ ''انصاف کی فراہمی عدل اور شفافیت کے اصولوں پر مبنی ہونی چاہیے۔جب سیاسی قیدیوں اور خاص طور پر ایک سابق منتخب صدر کو قانون کےکٹہرے میں لانے کے معاملہ آئے تو اس کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے''۔

واضح رہے کہ پاکستان کے سرکردہ سیاسی اور مذہبی رہ نماؤں نے ڈاکٹر محمد مرسی اور اخوان المسلمون کے دوسرے قائدین کو سزائے موت سنائے جانے پر تنقید کی ہے۔حزب اختلاف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے مصری عدالت کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ مصری عوام اور مصر میں جمہوریت کے لیے ضرر رساں ہے۔

عمران خان نے ڈاکٹر محمد مرسی کو سنائی گئی پھانسی کی سزا کا پاکستان کے سابق وزیراعظم اور پیپلز پارٹی کے بانی چئیرمین ذوالفقار علی بھٹو کو دی گئی پھانسی سے موازنہ کیا ہے۔ذوالفقار علی بھٹو کو 1979ء میں اپنے ایک سیاسی حریف نواب محمد احمد خان قصوری کو مبینہ طور پر قتل کرانے کے جُرم میں پھانسی دے دی گئی تھی۔

مصری عدالتوں نے حالیہ مہیںوں کے دوران سابق حکمراں جماعت اخوان المسلمون کے مرکزی قائدین اور سرکردہ کارکنان کو معمولی جرائم پر موت یا پھر لمبی قید کی سزائیں سنائی ہیں۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس طرح تھوک کے حساب سے پھانسی کی سزائیں سنانے کی مثال نہیں ملتی ہے۔

قبل ازیں جولائی 2013ء میں مصر کی مسلح افواج کے سربراہ عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں ڈاکٹر محمد مرسی کی منتخب حکومت کی برطرفی کے بعد سکیورٹی فورسز نے اخوان المسلمون کے کارکنان اور حامیوں کے خلاف خونیں کریک ڈاؤن کیا تھا جس کے دوران سیکڑوں افراد ہلاک ہوگئے تھے اور ہزاروں کو پکڑ کر پابند سلاسل کردیا گیا تھا۔اب انھیں مختلف مقدمات میں ماخوذ قرار دے کر موت اور قید کی سزائیں سنائی جارہی ہیں۔