.

''پاکستان میانمار نہیں،غیرملکی جارحیت کا جواب دے گا''

بھارت کی جانب سے دوسرے ممالک میں مداخلت کو قابل فخر گرداننا افسوس ناک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان کو میانمار سمجھنے کی غلطی نہ کرے،ہماری مسلح افواج کسی بھی غیرملکی جارحیت کا جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔انھوں نے کہا کہ بھارتی لیڈروں کو جاگتے میں سپنے دیکھنا بند کردینا چاہیے۔

اسلام آباد میں بدھ کو وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ بھارت شاید ماضی میں اپنے مذموم عزائم میں کامیاب ہوگیا ہوگا لیکن وہ مستقبل میں ایسا نہیں کرسکے گا ۔

وہ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی اور حکمراں انتہا پسند جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے دوسرے لیڈروں کی جانب سے پاکستان مخالف حالیہ بیانات کا جواب دے رہے تھے۔نریندر مودی نے اپنے حالیہ دورہ بنگلہ دیش میں پاکستان مخالف تند وتیز بیانات جاری کیے ہیں اور انھوں نے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے میں بھارت کے کردار کا برملا اعتراف بھی کیا ہے۔

پاکستان کے وزیردفاع خواجہ محمد آصف نے بھی انھیں آڑے ہاتھوں لیا ہے اور انھوں نے کہا ہے کہ بھارتی وزیراعظم کے بیانات نے دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کے ماحول کو آلودہ کردیا ہے۔

انھوں نے ایک مقامی ٹیلی ویژن چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستانی قوم کا دفاع کرے گی اور اگر بھارت پاکستان کو سبق سکھانے کی بات کرتا ہے تو پھر پاکستان بھی بھارت کو سبق سکھانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور وہ بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دے گا۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ پاکستان علاقائی امن کو تہ وبالا نہیں کرنا چاہتا ہے۔

درایں اثناء وزیراعظم میاں نواز شریف کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت 1971ء میں مشرقی پاکستان کی علاحدگی اور دہشت گردی کے ذریعے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے میں بھارت کے کردار کو اجاگر کرنے کے لیے جو کچھ ہوسکا،کرے گی۔

انھوں نے کہا کہ حکومت نے 1971ء میں مشرقی پاکستان کی علاحدگی میں بھارت کے کردار سے متعلق نریندر مودی کے اعترافی بیان کا نوٹس لیا ہے۔انھوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ مسٹر مودی نے پاکستان مخالف بیان جاری کرنے کے لیے بنگلہ دیش کا انتخاب کیا تاکہ وہاں پاکستان کے خلاف نفرت پھیلائی جاسکے لیکن وہ دونوں ملکوں کے عوام میں دوریاں پیدا کرنے کی سازش میں کامیاب نہیں ہوں گے کیونکہ وہ مذہب کے رشتے سے جڑے ہوئے ہیں اور انھوں نے برطانوی سامراج سے آزادی کے لیے مشترکہ جدوجہد کی تھی۔

انھوں نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری پر زوردیا ہے کہ وہ بھارت کی پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے سرگرمیوں میں شرکت سے متعلق اعترافی بیانات کا نوٹس لے۔ان کا کہنا تھا کہ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ نریندر مودی نے بھارت کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مستقل نشست کا کیس بنگلہ دیش میں پیش کیا ہے جہاں اس نے مداخلت کی تھی اور وہ تنازعہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی بھی خلاف ورزی کرتا چلا آرہا ہے۔مشیر امور خارجہ نے بھارتی وزیر دفاع منوہر پریکار کے دہشت گردی کو دہشت گردی کے ذریعے ختم کرنے سے متعلق بیان پر بھی افسوس کا اظہار کیا ہے۔

کورکمانڈرز کانفرنس

درایں اثناء پاکستان کی فوجی قیادت نے اس بات پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا ہے کہ بھارتی سیاست دان نہ صرف اقوام متحدہ کے منشور کے منافی سرگرمیوں میں ملوّث ہیں بلکہ وہ دوسرے ممالک کے داخلی امور میں مداخلت پر فخر کا اظہار بھی کررہے ہیں۔

جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راول پنڈی میں بدھ کو آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے زیر صدارت فارمیشن کمانڈروں کی کانفرنس ہوئی ہے۔اس میں بھارت کی جانب سے پاکستان مخالف حالیہ بیانات کا سنجیدگی سے نوٹس لیا گیا ہے۔کانفرنس کے شرکاء نے کسی بھی قیمت پر پاکستان کی علاقائی سالمیت کے دفاع کے عزم کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ملک کے خلاف کسی بھی مہم جوئی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

عسکری قیادت نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف جاری کارروائیوں کا جائزہ لیا ہے۔اس موقع پر جنرل راحیل شریف نے کہا کہ شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسی سے دہشت گردوں کا صفایا کردیا گیا ہے اور اب افغان سرحد کے نزدیک دہشت گردوں کی باقی بچ جانے والی چند ایک کمین گاہوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ تمام دہشت گردوں اور ان کے ٹھکانوں کے خاتمے تک فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔انھوں نے کمانڈروں کو محاصرے کا شکار دہشت گردوں کو فرار ہونے سے روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کی ہدایت کی ہے۔

جنرل راحیل شریف کا کہنا تھا کہ تمام قوم ہماری پشت پر کھڑی ہے اور ہم پاکستان کو پُرامن اور دہشت گردی سے پاک بنانے پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں گے۔انھوں نے شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضربِ عضب میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے فوجی افسروں اور جوانوں کو شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ''پاکستانی قوم دنیا کی بہادر اقوام میں سے ایک ہے اور وہ اس مشکل گھڑی میں فاتح کے طور پر ابھرنے کے قریب ہے۔ہمارا اجتماعی مقصد پاکستان کو محفوظ ،مضبوط اور خوش حال ملک بنانا ہے''۔کانفرنس میں پاکستان آرمی کے کور کمانڈروں ،پرنسپل اسٹاف افسروں اور فارمیشن کمانڈروں نے شرکت کی ہے۔

پاکستان آرمی کے سربراہ جنرل راحیل شریف
پاکستان آرمی کے سربراہ جنرل راحیل شریف