.

پاکستان میں این جی اوز وزارتِ داخلہ کے تحت کام کریں گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے اعلان کیا ہے کہ اب غیر سرکاری تنظیمیں (این جی اوز) اقتصادی امور ڈویژن کے بجائے وزارت داخلہ کے تحت کام کریں گی۔

چودھری نثار علی خان نے سوموار کو اسلام آباد میں ایک نیوزکانفرنس میں کہا ہے کہ اب وزارت داخلہ ہی این جی اوز کو اجازت نامے جاری کرنے کی مجاز ہوگی۔انھوں نے بتایا کہ بین الاقوامی این جی اوز کے پاکستان میں کام کرنے کے قواعد وضوابط اور قوانین کا جائزہ لینے والی بین الوزارتی کمیٹی نے یہ سفارش کی تھی کہ این جی اوز کو وزارت داخلہ کے تحت کام کرنا چاہیے۔یہ کمیٹی وزیراعظم کے خصوصی معاون برائے خارجہ امور طارق فاطمی کی سربراہی میں کام کررہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ این جی اوز کے احتساب کا ایک شفاف طریق کار ہونا چاہیے اور ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ رقم کہاں سے آرہی ہے اور اس کو کہاں خرچ کیا جارہا ہے؟ انھوں نے کہا کہ آیندہ تین سے چھے ماہ کے دوران تمام امور طے پا جائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ''بہت سی این جی اوز پاکستان کے ایسے دور دراز علاقوں میں کام کررہی ہیں جہاں سرکاری اداروں کو رسائی حاصل نہیں ہے یا ان کے پاس وہاں کام کرنے کے آلات نہیں ہیں۔ہم ایسی این جی اوز کو خوش آمدید کہتے ہیں لیکن اس سب سے کے باوجود ہم این جی اوز کو ملکی اقدار اور روایات کے منافی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دیں گے''۔

انھوں نے بتایا کہ اس وقت چالیس فی صد سے زیادہ این جی اوز غیر رجسٹر ہیں۔کسی کو بھی پاکستان میں کسی این جی او کے بہروپ میں غیرسرکاری سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

بین الاقوامی امدادی ایجنسی ''سیو دا چلڈرن'' کے حوالےسے گفتگو کرتے ہوئے وزیرداخلہ نے کہا کہ ''یہ تنظیم ریاست کی دشمن نہیں ہے،یہ سنہ 1997ء سے پاکستان میں کام کررہی ہے۔یہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ این جی او ہے لیکن سنہ 2012ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق دور حکومت میں اس سے متعلق بعض انٹیلی جنس رپورٹس منظرعام پر آئی تھیں۔تاہم سابق حکومت نے اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی تھی''۔

چودھری نثار علی خان نے کہا کہ ''غیر منظورشدہ این جی اوز کے عملے کو ویزے جاری نہیں کیے جائیں گے اور صرف منظور شدہ اور اپنے طے شدہ مینڈیٹ کے تحت کام کرنے والی این جی اوز کو معمول کے ویزے جاری کیے جائیں گے''۔اسی حوالے سے انھوں نے مزید کہا کہ سیو دا چلڈرن کے غیرملکی نمائندوں کو کوئی ویزا جاری نہیں کیا گیا ہے اور نہ حکومت نئی پالیسی کے نفاذ تک ویزے جاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ''سیو دا چلڈرن'' نے سنہ 2014ء میں منظوری کی درخواست دی تھی لیکن اس کی درخواست پر ابھی غور کیا جارہا ہے۔نئی پالیسی سے متعلق این جی اوز سے مشاورت کی جائے گی اور خودکار ریگولیٹری نظام اختیار کرنے والی این جی اوز کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔

واضح رہے کہ حکام نے 12 جون کو ''سیو دا چلڈرن'' کے پاکستان میں دفاتر بند کرنے کا حکم دیا تھا اور یہ موقف اختیار کیا تھا کہ یہ بین الاقوامی امدادی ادارہ ملک کے منافی سرگرمیوں میں ملوّث ہے۔تاہم بعد میں وزارت داخلہ نے سیو دا چلڈرن کی سرگرمیوں کو معطل کرنے کا حکم واپس لے لیا تھا۔اس کے علاوہ بھی حکومت نے بعض اور غیرملکی غیرسرکاری تنظیموں کو بھی ملک کی سماجی اقدار اور قومی سلامتی کے منافی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی بنا پر کام جاری رکھنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔