.

پاکستان میں القاعدہ کے مبیّنہ لیڈر کی ہلاکت کی تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور سے متصل ضلع شیخو پورہ کے علاقے میں پولیس اور انسداد دہشت گردی فورسز کی دو روز قبل کارروائی کے دوران ہلاک ہونے والے چار مشتبہ دہشت گردوں کی شناخت ہوگئی ہے اور صوبہ پنجاب کے وزیرداخلہ نے بدھ کو ایک نیوز کانفرنس میں دعویٰ کیا ہے کہ ان میں سے ایک پاکستان میں القاعدہ کا لیڈر تھا۔

وزیرداخلہ شجاع خانزادہ نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ القاعدہ کے اس لیڈر کا نام ''ابدالی'' تھا۔وہ اور تین دوسرے ہلاک دہشت گرد حکومتی شخصیات پر حملوں کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ''ان دہشت گردوں کو بریفنگ دینے والے لیڈر کا نام ''ابدالی'' تھا اور وہ پاکستان میں القاعدہ کا سربراہ تھا۔وہی تمام ٹیم کی قیادت کررہا تھا''۔وزیرداخلہ کے بہ قول اس تمام منصوبے کے ماسٹر مائنڈ القاعدہ کی جنوبی ایشیا شاخ کے لیڈر مولانا عاصم عمر تھے۔

حکام کا کہنا تھا کہ یہ گروپ مال روڈ لاہور پر واقع انٹیلی جنس بیورو(آئی بی) کے صوبائی ہیڈکوارٹرزکو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کررہا تھا۔لیکن حکام کے ان دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہے۔

شجاع خانزادہ نے سوموار کے روز صحافیوں کو بتایا تھا کہ ''پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں تین جنگجو ہلاک ہوگئے تھے اور چوتھے نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا تھا جبکہ دو کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا ہے''۔انھوں نے تب بتایا تھا کہ اس مشتبہ جنگجو گروپ کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تھا۔

خود کو دھماکے سے اڑانے والے جنگجو کی شناخت دو روز بعد ابدالی کے نام سے کی گئی ہے اور وہ کالا شاہ کاکو کے نزدیک واقع قصبے مرید کے سے تعلق رکھتا تھا۔تاہم حکام نے ان ابدالی صاحب کا پورا نام نہیں بتایا ہے۔یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ یہ عرفی نام تھا یا اصل نام کا دوسرا حصہ ہے۔

صوبائی وزیرداخلہ کے بہ قول سکیورٹی فورسز کی ٹیم نے ایک خفیہ اطلاع کے بعد لاہور سے اٹھارہ کلومیٹر شمال میں ضلع شیخوپورہ میں واقع قصبے کالا شاہ کاکو میں سوموار کی صبح چھاپہ مار کارروائی کی تھی۔اس دوران پولیس نے مشتبہ دہشت گردوں کے مکان سے تین خودکش جیکٹس ،ایک راکٹ لانچر ،پانچ کلاشنکوف رائفلیں ،بڑی تعداد میں گولیاں ،لیپ ٹاپ اور اہم عمارتوں کے نقشے قبضے میں لے لیے تھے۔