.

ٹرین نہر میں گرنے سے 12 پاکستانی فوجی شہید

شہید ہونے والوں میں یونٹ کے کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل عامر جدون بھی شامل ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صوبہ پنجاب کے صنعتی شہر گوجرانوالہ میں پل ٹوٹنے سے فوجیوں کو روٹین کی فوجی مشقوں کے لئے پنوں عاقل سے کھاریاں لیجانے والی خصوصی ٹرین نہر میں گرنے سے بارہ فوجی افسر و جوان شہید جبکہ 80 افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو گوجرانوالہ کے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال میں داخل کرا دیا ہے۔ فوج کا ہنگامی ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

ٹرین پنوں عاقل چھاونی سے کھاریاں کینٹ جا رہی تھی۔ ریلوے ذرائع کے مطابق ٹرین میں 6 مسافر بوگیاں اور 21 مال بردار بوگیاں تھیں۔ حادثہ دوپہر کو اس وقت پیش آیا جب گاڑی جامکے چٹھہ کے قریب پل چھناں واں پر پہنچی تو یہ اچانک گر گیا جس سے ٹرین کی 3 بوگیاں نہر میں گر گئیں۔ حادثے کے بعد نہر لوئر چناب میں پانی کی سپلائی روک دی گئی ہے۔

حادثہ کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور کارروائی شروع کر دی ۔ پاک آرمی نے بھی علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور نہر میں گرنے والی بوگیوں کو نکالنے کی کارروائی شروع کر دی گئی۔ دو ہیلی کاپٹر ریسکیو آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرین میں لگ بھگ 200 افراد سوار تھے جن میں سے بیشتر کو نکال لیا گیا ہے۔ باقی افراد کو نکالنے کا کام جاری ہے۔

ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ پاکستان ریلوے کے حکم پر ہیڈ چھناں واں پر ہونے والے ٹرین حادثہ میں امدادی کارروائیوں کیلئے ریلیف ٹرین لاہور سے روانہ کر دی گئی ہے۔

ریلیف ٹرین جائے وقوعہ پر پہنچ کر نہر میں گرنے والی ٹرین کی بوگیوں کو باہر نکالے گی اور ڈوبنے والے افراد کو نکالنے میں مدد کرے گی۔ ریلیف ٹرین میں ٹیکنیکل ،مکینکل اور میڈیکل عملہ بھی روانہ کیا گیا ہے۔