.

شمالی وزیرستان: جھڑپ میں 12 جنگجو ہلاک ،4 فوجی شہید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں بارہ مشتبہ طالبان جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔ان کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں چار فوجی شہید ہوگئے ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے اتوار کو جاری کردہ بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں جھڑپ ہوئی ہے اور جنگجو فرار ہوتے ہوئے تین لاشیں وہیں چھوڑ گئے ہیں۔

پاکستان آرمی گذشتہ سال جون سے شمالی وزیرستان میں آپریشن ضربِ عضب کے نام سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دوسرے جنگجو گروپوں کے خلاف ایک بڑی کارروائی کررہی ہے۔اس دوران قریباً تین ہزار جنگجوؤں کو ہلاک کردیا گیا ہے اور افغان سرحد کے نزدیک واقع شمالی وزیرستان کے نوّے فی صد سے زیادہ علاقے کو کلیئر کرا لیا گیا ہے۔

پاکستان کے عسکری حکام کا کہنا ہے کہ سرحد کے آر پار اب اس آپریشن کو تیز کیا جائے گا اور بچھے کچھے جنگجوؤں کا بھی جلد قلع قمع کردیا جائے گا۔ آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق شمالی وزیرستان سے جنگجوؤں کے فرار کو روکنے کے لیے اس سے ملحقہ ایجنسیوں کے ساتھ سرحد پر فوجی دستے تعینات کردیے گئے ہیں۔

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے جمعہ کو علاقے کا دورہ کیا تھا اور انھوں نے کہا تھا کہ وادی شوال کی چوٹیوں کے آس پاس آپریشن کا پہلا مرحلہ کامیابی سے مکمل ہوگیا ہے اور اب زیریں علاقوں میں کارروائی شروع کی جائے گی۔انھوں نے کہا کہ پاکستان کو دہشت گردی سے پاک بنانے کے مقصد کے حصول تک ہمیں رکیں گے نہیں اور دہشت گردوں کے مکمل استیصال تک کارروائی جاری رکھی جائے گی۔

آپریشن ؛ضربِ عضب کے دوران جنگجوؤں کی ایک بڑی تعداد کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ بھاگ کر ملک کے دوسرے علاقوں کی جانب چلے گئے ہیں یا پھر سرحد پار کرکے پڑوسی ملک افغانستان میں داخل ہوگئے ہیں۔پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت افغان حکومت سے ان طالبان جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتی چلی آرہی ہے۔