.

نریندر مودی نے دورۂ پاکستان کی دعوت قبول کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف نے اپنے بھارتی ہم منصب نریندر مودی کو جنوبی ایشیا کی علاقائی تعاون تنظیم سارک کے 2016ء میں منعقد ہونے والے سربراہ اجلاس کے موقع پر پاکستان کے دورے کی دعوت دی ہے جو انھوں نے قبول کر لی ہے۔

وزیر اعظم نواز شریف نے روس کے شہر افا میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کے موقع پر اپنے ہندوستانی ہم منصب نریندر مودی سے ملاقات کی ہے۔اطلاعات کے مطابق افا کے کانگریس ہال میں ہونے والی یہ ملاقات ایک گھنٹے تک جاری رہی ہے۔

اس ملاقات کے بعد بھارت کے سیکرٹری خارجہ ایس جے شنکر نے صحافیوں کو نیوز بریفنگ میں بتایا کہ وزیراعظم نواز شریف نے نریندر مودی کو 2016ء میں پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی ہے اور انھوں نے یہ دعوت قبول کر لی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ دونوں لیڈروں نے ملاقات میں اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ پاکستان اور ہندوستان کے مشیر برائے سلامتی جلد نئی دہلی میں ملاقات کریں گے اور وہ انسداد دہشت گردی سے متعلق امور پر بات چیت کریں گے۔

اس موقع پر پاکستان کے سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری نے بتایا کہ دونوں لیڈروں کے درمیان خوشگوار ماحول میں ملاقات ہوئی ہے اور انھوں نے دوطرفہ تعلقات اور اہم علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

انھوں نے کہا:''دونوں لیڈروں نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ خطے میں امن اور ترقی کو فروغ دینا پاکستان اور بھارت کی اجتماعی ذمے داری ہے۔اس مقصد کے حصول کے لیے وہ تمام تصفیہ طلب امور پر بات چیت کے لیے تیار ہیں''۔

خارجہ سیکریٹری نے مزید کہا کہ دونوں لیڈروں نے دہشت گردی کی مذمت کی ہے اور انھوں نے جنوبی ایشیا کو اس لعنت سے پاک کرنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون سے اتفاق کیا ہے۔

بھارت کے سیکریٹری خارجہ نے ایس جے شنکر نے بتایا کہ دونوں وزرائے اعظم نے دونوں ملکوں کے قومی سلامتی کے مشیروں کے درمیان نئی دہلی میں ملاقات کے علاوہ درج ذیل اقدامات سے اتفاق کیا ہے:

بھارت کی بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے ڈائریکٹر جنرل اور پاکستان رینجرز کے ڈائریکٹر جنرل کے درمیان سالانہ بنیاد پر ملاقات ہوا کرے گی۔اس کے بعد دونوں ملکوں کے ڈائریکٹرز جنرل آف ملٹری آپریشنز کے درمیان ملاقات ہوگی۔

یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ دونوں ملک اپنے اپنے زیرحراست مچھیروں کو پندرہ دن کے اندر ان کی کشتیوں سمیت چھوڑ دیا کریں گے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان مذہبی سیاحت کو فروغ دینے کے لیے میکانزم وضع کیا جائے گا۔ممبئی حملوں کے کیس کے ٹرائل کو تیز کرنے کے لیے آواز کے نمونوں سمیت اضافی معلومات فراہم کی جائیں گی۔

ملاقات میں وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے قومی سلامتی اور خارجہ امور سرتاج عزیز اور خصوصی معاون برائے خارجہ امور طارق فاطمی بھی موجود تھے۔مئی 2014ء میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے بعد میاں نواز شریف کی ان سے یہ پہلی ملاقات تھی۔

نریندر مودی کی قیادت میں انتہا پسند جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے بھارت میں برسراقتدار آنے کے بعد سے دونوں ملکوں کے دوطرفہ تعلقات میں سردمہری آئی ہے اور بھارتی وزراء کے حالیہ تندوتیز بیانات کے بعد پاکستان کی جانب سے بھی جوابی سخت بیانات جاری کیے گئے ہیں جبکہ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت نے بھارت کی خفیہ ایجنسیوں کے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی اور صوبہ بلوچستان میں تخریبی سرگرمیوں میں ملوّث ہونے اور جرائم پیشہ علاحدگی پسند عناصر کی کھلے بندوں حمایت کے خلاف بولنا شروع کردیا ہے۔اس حوالے سے بعض ثبوت بھی منظرعام پر لائے گئے ہیں۔

توقع ہے کہ افا،روس میں منعقدہ شنگھائی تنظیم تعاون کے سربراہ اجلاس میں پاکستان اور ہندوستان کو تنظیم کی رکنیت دینے کا اعلان کیا جائے گا۔ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کی رُکنیت سے پاکستان اور بھارت کے دوطرفہ تعلقات پر مثبت اثر پڑے گا۔