.

حریت رہ نما نے پاکستانی ہائی کمیشنر کی عید ملن مسترد کردی

مودی ،نوازشریف ملاقات میں تنازعہ کشمیر کو نظرانداز کرنے پر بطور احتجاج فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کے زیر انتظام مقبوضہ جموں وکشمیر کے سرکردہ حریت رہ نما سید علی شاہ گیلانی نے نئی دہلی میں 21 جون کو پاکستان کے ہائی کمیشن میں عید ملن تقریب میں شرکت کی دعوت مسترد کردی ہے۔

بھارت کے ٹی وی چینل زی نیوز کے مطابق سید گیلانی نے حال ہی میں روس کے شہر افا میں پاکستانی وزیراعظم میاں نواز شریف اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان ملاقات میں تنازعہ کشمیر کو نظر انداز کرنے پر یہ دعوت نامہ مسترد کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ دونوں لیڈروں کی ملاقات کے بعد جاری کردہ بیان میں تنازعہ کشمیر کا کوئی ذکر نہیں تھا۔

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق حریت کانفرنس کے رہ نما نے کہا ہے کہ ''وہ عید ملن میں شرکت نہ کرکے اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں گے کیونکہ دونوں وزرائے اعظم نے افا میں ملاقات کے دوران کشمیر پر کوئی بات چیت نہیں کی تھی۔اس لیے ہم پاکستان کی کسی تقریب کا حصہ نہیں بننا چاہتے ہیں''۔

انھوں نے سری نگر سے ٹیلی فون کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''تنازعہ کشمیر ہمارے لیے زندگی اور موت کا معاملہ ہے۔میں علامتی احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشنرکی عید ملن میں شرکت نہیں کروں گا''۔

نئی دہلی میں متعین پاکستانی ہائی کمیشنر عبدالباسط نے مقبوضہ جموں وکشمیر کی کل جماعتی حریت کانفرس سے تعلق رکھنے والے رہ نماؤں کو عید ملن میں شرکت کی دعوت دی تھی۔ہائی کمیشنر نے گذشتہ سال حریت لیڈر شبیر شاہ سے ملاقات کی تھی جس کے بعد بھارت نے خارجہ سیکریٹری سطح کے دوطرفہ مذاکرات منسوخ کردیے تھے۔

پاکستان نے بھارت کے اس فیصلے کو پاکستانی قیادت کی جانب سے بھارت کے ساتھ اچھے ہمسائیگی کے تعلقات استوار کرنے کے ضمن میں کوششوں کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا تھا۔اس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان روس کے شہر افا میں گذشتہ ہفتے منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کے موقع پر اعلیٰ سطح پر رابطہ ہوا ہے اور دونوں وزرائے اعظم نے دوطرفہ امور پر بات چیت کی ہے لیکن اس میں بنیادی تنازعے کشمیر کے حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا تھا۔