.

بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ، چار پاکستانی شہید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کی بارڈر سکیورٹی فورسز (بی ایس ایف) نے جمعرات کے روز سیال کوٹ کے چپراڑ سیکٹر اور راولا کوٹ (آزاد کشمیر) میں لائن آف کنٹرول کے نزدیک بلا اشتعال فائرنگ کی ہے جس کے نتیجے میں چار پاکستانی شہید اور پانچ زخمی ہوگئے ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق سیال کوٹ اور مقبوضہ جموں وکشمیر کے درمیان ورکنگ باؤنڈری کے نزدیک واقع چپراڑ سیکٹر میں بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ سے تین پاکستانی شہید ہوئے ہیں۔ان تینوں کی شناخت غلام مصطفیٰ ،راحت اور محمد بوٹا کے نام سے کی گئی ہے۔راولا کوٹ میں اٹھارہ سالہ لڑکی زرینہ بی بی شہید ہوئی ہے۔

بھارت کی بارڈر سکیورٹی فورسز نے بدھ کی صبح پاکستانی علاقے کی جانب بلا اشتعال فائرنگ شروع کی تھی اور یہ سلسلہ جمعرات کو بھی جاری تھا اور چناب رینجرز نے ان کی پوزیشنوں کی جانب جوابی فائرنگ کی ہے۔

رینجرز کے ذرائع نے بتایا ہے کہ ورکنگ باؤنڈری کے نزدیک سیال کوٹ کے علاقے میں بھارتی گولہ باری سے مویشی بھی ہلاک ہوگئے ہیں اور مکانوں کو نقصان پہنچا ہے۔بھارتی فورسز نے گذشتہ روز ورکنگ باؤنڈری کے ساتھ واقع بجوات سیکٹر میں گولہ باری کی تھی لیکن اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

پاکستان اور بھارت کی سرحدی فورسز کے درمیان گذشتہ برسوں سے کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر وقفے وقفے سے فائرنگ کے تبادلے کا سلسلہ جاری ہے۔مارچ 2015ء میں بھارت کی سرحدی فورسز نے ورکنگ باؤنڈری کے ساتھ واقع چارواہ سیکٹر میں بعض دیہات پر بلا اشتعال گولہ باری کی تھی۔تب پاکستان کے فوجی حکام نے بی ایس ایف پر جنگ بندی کے سمجھوتے کی خلاف ورزی کا الزام عاید کیا تھا۔

جنوری میں ضلع سیال کوٹ میں ورکنگ باؤنڈری کے ساتھ واقع دیہات میں بی ایس ایف نے بلا اشتعال گولہ باری کی تھی جس کے نتیجے میں چار پاکستانی مارے گئے تھے۔دسمبر 2013ء میں دونوں ملکوں نے سنہ 2003ء میں طے پائے جنگ بندی کے سمجھوتے کی پاسداری کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اس کے باوجود وقفے وقفے سے سرحد پر اشتعال انگیز کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

بھارتی ہائی کمیشنر کی طلبی

درایں اثناء اسلام آباد میں تعینات بھارت کے ہائی کمیشنر ٹی ایس اے رگھا وان کو پاکستان کے سیکریٹری خارجہ اعزازاحمد چودھری نے دفتر خارجہ طلب کیا ہے اور ان سے بھمبر کے علاقے میں پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر شدید احتجاج کیا ہے۔

بدھ کو بھارت کا ایک بغیر پائیلٹ جاسوس طیارہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہوا تھا اور پاکستانی فورسز نے اس ڈرون کو مار گرایا تھا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ اعزاز چودھری نے بھارتی ہائی کمیشنر کو 11 جولائی کو لائن آف کنٹرول کے نزدیک ایک بھارتی ہیلی کاپٹر کی جانب سے فضائی حدود کی خلاف ورزی پر بھی حکومت کی تشویش سے آگاہ کیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ بھارت کی بارڈر سکیورٹی فورسز کی جانب سے 15 جولائی کو پھوکلیان ،اکھنور سیکٹروں میں بلا اشتعال فائرنگ پر بھی احتجاج ریکارڈ کرایا گیا ہے۔مسٹر رگھا وان نے سیکریٹری خارجہ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ان کے پیغام کو متعلقہ بھارتی حکام تک پہنچا دیں گے۔