.

الطاف حسین کا تادمِ مرگ بھوک ہڑتال کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی لسانی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے لندن میں خودساختہ قائد الطاف حسین نے صوبہ سندھ میں اپنی جماعت کے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے خلاف احتجاج کے طور پر تادم مرگ بھوک ہڑتال کرنے کا اعلان کیا ہے۔

الطاف حسین کی جانب سے اتوار کو لندن میں جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس بھوک ہڑتال کی تیاریاں کی جارہی ہیں اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے اجازت ملنے کی صورت میں اس کا آغاز کردیا جائے گا۔

الطاف حسین نے بیان میں حسب سابق اپنے ''عوام کے لیے بھوک ہڑتال '' کے نام پر یہ نیا ڈراما رچانے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ''میں نے اپنے عوام سے وعدہ کیا ہے کہ میں غداروں کے سامنے سر جھکانے کے بجائے مرنے کو ترجیح دوں گا''۔اب یہ معلوم نہیں کہ ان غداروں سے ان کی کیا مراد ہے؟وہ اپنی جماعت کو خیرباد کہنے والوں کو غدار کا لقب عطا کررہے ہیں یا ان کا اشارہ ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت کی جانب ہے۔

انھوں نے بیان میں اس جانب کچھ اشارہ یوں کیا ہے: ''پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومت ،آرمی ،رینجرز اور ریاست کی دوسری سکیورٹی ایجنسیاں بے گناہ عوام کو نشانہ بنانے میں مصروف ہیں،اس وجہ سے میں نے بھوک ہڑتال کرنے کا فیصلہ کیا ہے''۔

ان کا کہنا ہے کہ ''میری سیاسی جماعت کو دیوار سے لگانے کے خلاف احتجاج کے طور پر بھوک ہڑتال کرنے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں رہ گیا ہے۔میری موت کے بعد جماعت کے تمام امور رابطہ کمیٹی چلائے گی اور وہی میری سیاسی تحریک کو جاری رکھنے یا نہ رکھنے کا فیصلہ کرے گی''۔

پیرا ملٹری فورس رینجرز اس وقت کراچی میں الطاف حسین کی جماعت کے جرائم پیشہ عناصر اور دوسرے شرپسندوں کے خلاف کارروائی کررہی ہے۔گذشتہ ہفتے ہی حکومت سندھ نے رینجرز کی کراچی میں تعیناتی میں ایک سال کی توسیع کردی گئی ہے۔اس کے دستوں نے جمعہ کے روز کراچی کے علاقے عزیز آباد میں واقع ایم کیو ایم کے ہیڈ کوارٹرز نائن زیرو پر ایک اور چھاپہ مار کارروائی کی تھی اور اس کی رابطہ کمیٹی کے دو ارکان کو گرفتار کر لیا تھا۔

اس کارروائی کے بعد سندھ رینجرز کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ''قمر منصور اور کیف الوراء کو کراچی کے امن کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کا اہتمام کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے''۔اس کے بعد رینجرز نے رابطہ کمیٹی کے رکن کیف الوراء کو جمعہ کی شب عید الفطر کے لیے ضمانت پر رہا کردیا تھا۔

الطاف حسین نے حالیہ ہفتوں کے دوران مایوسی کے عالم میں پاکستان آرمی کے خلاف متعدد تندوتیز اور اشتعال انگیز تقاریر کی ہیں جس پر ان کے خلاف سندھ کے مختلف تھانوں میں مقدمات درج کر لیے گئے ہیں جبکہ ان کی جماعت پر ہمسایہ ملک بھارت کی خفیہ ایجنسی را سے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں گڑ بڑ پھیلانے کے لیے رقوم لینے کے الزامات بھی منظرعام پر آئے ہیں۔

انھوں نے اتوار کو ایک تقریر میں پاکستان آرمی کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سندھ رینجرز کے ڈائریکٹر جنرل اور دوسرے اعلیٰ افسروں کی جانب سے ان کے بہ قول فوج کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا نوٹس لیں۔انھوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے میں ان سے انصاف کیا جائے۔انھوں نے سندھ رینجرز پر اپنی جماعت کے کارکنان کو تشدد کا نشانہ بنانے اور ہلاک کرنے کے الزامات عاید کیے ہیں۔

یادرہے کہ الطاف حسین 1992ء سے برطانیہ میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ تب کراچی میں لسانی بنیاد پر خونریزی کے خاتمے کے لیے فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد بھاگ کر لندن چلے گئے تھے اور انھوں نے 2002ء میں برطانوی شہریت حاصل کر لی تھی۔ان کے خلاف اس وقت لندن میں ڈاکٹر عمران فاروق کو قتل کرانے اور منی لانڈرنگ کے الزامات میں تحقیقات کی جارہی ہے۔برطانوی پولیس نے 2012ء اور 2013ء میں ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا تھا اور وہاں سے لاکھوں پاؤنڈز کی نقدی اور بعض حساس دستاویزات برآمد کی تھیں۔

بعض اطلاعات کے مطابق پولیس نے ان کی رہائش گاہ سے ڈھائی لاکھ پاؤنڈز برآمد کیے تھے اور اس رقم کی بنیاد پر ان کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔ برطانوی قانون کے تحت انھیں اس مقدمے میں زیادہ سے زیادہ چودہ سال قید کی سزا کا سامنا ہوسکتا ہے۔اگر ان کے خلاف ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی سازش میں ملوث ہونے کا الزام بھی ثابت ہوجاتا ہے تو اس کی انھیں الگ سے سزا بھگتنا پڑَے گی۔