.

آسیہ بی بی کی پھانسی کے خلاف حکم امتناعی جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے توہین رسالت کے جُرم میں عیسائی عورت آسیہ بی بی کو پھانسی دینے کے خلاف حکم امتناعی جاری کردیا ہے اور اس کی جانب سے سزائے موت کے خلاف دائرکردہ درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی ہے۔

عدالتِ عظمیٰ کی لاہور رجسٹری نے بدھ کو آسیہ بی بی کی درخواست مکمل سماعت کے لیے منظور کی ہے اور کیس سے متعلق تمام ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ پچاس سالہ اس عورت نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ اس نے کوئی توہین آمیز کلمات ادا نہیں کیے تھے بلکہ اس کے ہمسایوں نے ذاتی عناد اور جھگڑے کی بنیاد پر اس پر توہین رسالت کا الزام عاید کیا تھا۔

اس نے عدالتِ عظمیٰ سے استدعا کی ہے کہ اس کو سنائی گئی سزائے موت کو کالعدم قرار دیا جائے۔ پانچ بچوں کی ماں آسیہ بی بی کو نومبر 2010ء میں ایک ماتحت عدالت نے پیغمبر اسلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کے الزام میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت سنائی تھی۔اس نے 2009ء میں ایک مسلم خاتون کے ساتھ لڑائی جھگڑے کے دوران توہین آمیز کلمات ادا کیے تھے۔

مجرمہ نے اس سزا کے خلاف عدالتِ عالیہ لاہور میں اپیل دائر کی تھی مگرعدالت کے دو رکنی بنچ نے اکتوبر 2014ء میں اس کو سنائی گئی پھانسی کی سزا برقرار رکھی تھی اور اس کی جانب سے ماتحت عدالت کے فیصلے کے خلاف دائر کردہ اپیل کو مسترد کردیا تھا۔اس نے نومبر 2014ء میں عدالت عالیہ لاہور کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔

اس عورت کی سزائے موت کے خلاف اس وقت کے گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے آواز اٹھائی تھی اور اس سے جیل میں ملاقات بھی کی تھی۔سلمان تاثیر اور پاکستان پیپلز پارٹی کی سابق حکومت کے وفاقی وزیر برائے اقلیتی امور شہباز بھٹی نے توہین رسالت کے جرم میں سزائے موت کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی میں ترمیم کا مطالبہ کیا تھا۔

سابق حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے ان دونوں رہ نماؤں کو اس قانون کی مخالفت کی بنا پر قتل کردیا گیا تھا۔گورنر سلمان تاثیر کو ان کے اپنے ہی ایک محافظ ممتاز قادری نے اسلام آباد کی ایک مارکیٹ میں گولی مار کر قتل کردیا تھا۔وہ اس وقت راول پنڈی کی اڈیالا جیل میں قید ہے اور اس کو سزائے موت سنائی جاچکی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں توہین رسالت ایک بہت حساس معاملہ ہے اور ملک کی مذہبی سیاسی جماعتیں اور دینی تنظیمیں اس جرم کے مرتکبین کے لیے پھانسی کی سزا ختم کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ وہ ماضی میں ایسی کسی بھی کوشش کی سخت مزاحمت کرچکی ہیں۔ان کا موقف ہے کہ قانون کو ختم کرنے کے بجائے اس کے نفاذ کے طریق کار کو بہتر بنایا جائے۔

تاہم حالیہ برسوں کے دوران اس قانون کے تحت کسی مجرم کو دی گئی سزائے موت پر تو عمل درآمد نہیں کیا گیا لیکن مشتعل ہجوم نے توہین رسالت کے الزام میں متعدد افراد کو اپنے طور پر تشدد کا نشانہ بنا کر موت کی نیند سلا دیا ہے اور ان کے خلاف عدالتوں میں مقدمات چلنے کی نوبت ہی نہیں آئی ہے۔گذشتہ سال پنجاب کے ضلع قصور میں ایک عیسائی جوڑے کو قرآن کی توہین کے الزام میں زندہ جلا دیا گیا تھا۔اس واقعہ کی انسانی حقوق کی تنظیموں کے علاوہ ملک کی دینی و سیاسی جماعتوں نے بھی شدید مذمت کی تھی۔