.

لشکر جھنگوی کے بانی بیٹوں سمیت 'پولیس مقابلے' میں ہلاک

مارے جانے والوں میں کالعدم تنظیم کے ترجمان قاری غلام رسول شاہ بھی شامل ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی کالعدم شدت پسند تنظیم لشکرِ جھنگوی کے بانی و سابق امیر ملک اسحاق سمیت 14 شدت پسند بدھ کو علی الصباح ایک مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ مارے جانے والوں میں ملک اسحاق کے دو بیٹے بھی شامل ہیں۔ کارروائی میں چھے پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق صوبہ پنجاب کے ضلع مظفر گڑھ میں پولیس شدت پسندی کے متعدد واقعات کی تفتیش کے دوران ملنے والے شواہد کی بنا پر ملک اسحاق اور ان کے بیٹوں کو ایک گاؤں شاہ والا کے قریب جنگلوں میں ایک مکان پر لے جا رہی تھی جہاں انھوں نے اسلحہ موجود ہونے کے بارے میں بتایا تھا۔ملزمان کی جائے وقوعہ سے واپسی کے دوران وہاں پہلے سے موجود ان کے ساتھیوں نے ملک اسحاق اور دوسرے ملزمان کو چھڑانے کے لیے پولیس اہلکاروں پر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں فائرنگ کے تبادلے میں ملک اسحاق اور ان کے دو بیٹوں عثمان اور حق نواز سمیت 14 افراد ہلاک ہو گئے۔

مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والوں کالعدم تنظیم لشکرِ جھنگوی کے ترجمان قاری غلام رسول شاہ بھی شامل ہیں جبکہ دیگر ملزمان میں سے چند افراد کا تعلق کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان سے بتایا جاتا ہے اور وہ شدت پسندی کے متعدد مقدمات میں پولیس کو مطلوب تھے۔

مقامی پولیس کے مطابق کچھ ملزمان کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا جبکہ فائرنگ کے نتیجے میں چھے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں جنہیں طبی امداد کے لیے مقامی ہسپتال میں داخل کروادیا گیا ہے۔ مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے دوران کچھ اسلحہ گولہ بارود اور دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے والا مواد بھی ملا ہے۔

یاد رہے کہ ملک اسحاق گذشتہ آٹھ ماہ سے خدشہِ نقضِ امن کے تحت ملتان جیل میں نظربند تھے۔ چند روز قبل ملک اسحاق اور اس کے دو بیٹوں سمیت پانچ افراد کو آٹھ افراد کو قتل کرنے کے الزام میں انسداد دہشت گردی پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ان میں اہلِ تشیع کے لوگ بھی شامل تھے۔

محکمہِ انسدادِ دہشت گردی کے اہلکار کے مطابق شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے ان افراد کی ٹارگٹ کلنگ کے سلسلے میں لشکرِ جھنگوی کے کارکن تہذیب حیدر اور محمد زبیر نامی ملزمان کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔انھوں نے تفتیش کے دوران پولیس کو بتایا کہ 16 افراد پر مبنی ایک خصوصی گروہ تشکیل دیا گیا ہے جس کو فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کی ذمہ داری سونپی گئی۔

خیال رہے کہ ملک اسحاق پر اہل تشیع اور دیگر مسالک سے تعلق رکھنے والے افراد کے قتل کے درجنوں مقدمات قائم کیے گئے تھے اور وہ تقریباً چودہ سال جیل میں رہے۔وہ ابتدا میں کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ کے رکن تھے لیکن اپنی مبینہ متشدد پالیسی کی بنیاد پر سپاہ صحابہ سے اختلاف کے بعد ایک نئی تنظیم لشکر جھنگوی کی بنیاد رکھی اور اس کے بانی امیر بنے۔ یہ تنظیم بعد میں کالعدم قرار دے دی گئی تھی۔

سنہ 2012 میں سپاہ صحابہ میں قیادت کے معاملے پر اختلافات ختم ہو گئے تھے اور تنظیم کے موجودہ سربراہ احمد لدھیانوی اور ملک اسحاق میں صلح کے بعد انھیں تنظیم کا نائب صدر بنا دیا گیا تھا۔

امریکا کے محکمۂ خارجہ نے انھیں ایک ’عالمی دہشت گرد‘ قرار دیا تھا اور ان کی تنظیم لشکرِ جھنگوی کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کررکھا تھا۔