.

پاکستان، ایران مل کر دہشت گردی ختم کرنے پر تیار

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کی نواز شریف سے ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

"پاکستان اور ایران نے معاشی تعاون کے فروغ اور خطے سے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان تعاون سے پورے خطے میں خوشحالی آئے گی۔ دوطرفہ سرحدی معاملات کو دونوں ملکوں کے درمیان موجود میکانزم کے ذریعے بہتر طریقے سے حل کیا جا سکتا ہے۔"

ان خیالات کا اظہار پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف اور وزیر اعظم کے مشیر سرتاج نے جمعرات کے روز اسلام آباد میں مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نیوز کانفرنس سے پہلے وفود کی سطح پر وسیع البنیاد مذاکرات ہوئے۔ یاد رہے کہ جواد ظریف کا رواں سال کے دوران پاکستان کا یہ دوسرا دورہ ہے۔

مشیر خارجہ سر تاج عزیز نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان ثقافت، مذہب اور جغرافیائی حوالے سے مضبوط تعلقات قائم ہیں۔ میں ایران کو کامیاب ویانا مذاکرات پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ایران کا ایٹمی معاہدہ پورے خطے میں امن وسلامتی کے لیے معاون ثابت ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی وفد کے ساتھ دوطرفہ تعلقات اور تعاون پر تفصیلی بات چیت ہوئی ہے اور اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان موجود میکانزم کو استعمال میں لا کر سرحدی معاملات کو حل کیا جائے گا۔ معیشت اور دوسرے اہم شعبوں میں تعاون کے فروغ کیلئے راستے تلاش کرنے بھی اتفاق ہوا ہے۔ پاک۔ایران گیس پائپ لائن کا منصوبہ بھی زیر بحث آیا ہے جبکہ دونوں ملکوں نے خطے کے ممالک کے درمیان معاشی رابطوں کے فروغ کو خطے کی ترقی کیلئے اہم قرارداد یا ہے۔ ملاقات میں علاقائی و عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا کہ پاکستان اور ایران دوست ملک ہیں۔ دونوں ملکوں نے خطے سے دہشت گردی کے خاتمے، تیل، گیس اور توانائی کے شعبوں میں مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ مشیر خارجہ سرتاج عزیز سے بات چیت کے دوران ہم نے دونوں ملکوں کی قیادت کے فیصلوں پر عمل درآمد پر غور کیا۔

"پاکستان اور ایران کو مل کر شام، عراق، افغانستان سمیت خطے کے مسائل کو حل کرنے کیلئے مل کر کام کرنا چاہیے۔ خطے کے تمام ممالک کو دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کیلئے ملکر کام کرنا ہو گا۔ ایک سوال کے جواب پر انہوں نے کہا کہ ایران، افغان مفاہمتی عمل کی مکمل حمایت کرتا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس عمل کو آگے بڑھا کر دہشت گردی اور خصوصاً داعش جیسے خطرات سے نمٹا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے تمام بین الاقوامی فورم پر ایران کا ساتھ دیا ہے جس پر ہم اس کے مشکور ہیں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو بامعنی تعاون میں تبدیل کریں گے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پاک ایران سرحد پر بدقسمتی سے کچھ واقعات ہوئے ان مسائل کو دونوں ملکوں کے درمیان موجود میکانزم کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ ایران، افغانستان اور بلوچستان کی ترقی کا حامی ہے۔ اس سے غربت اور دہشت گردی سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔ ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ پاک۔ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر دونوں ملکوں کی متعلقہ وزارتیں کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا پاکستان اور ایران سرحد پر مسائل کی بڑی وجہ منشیات کے سمگلر ہیں۔ سرحدی میکانزم کو مضبوط بنا کر ان پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

وزیر اعظم سے ملاقات

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے اسلام آباد میں وزیر اعظم نواز شریف سے بھی ملاقات کی۔ دونوں رہنمائوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات، پاک۔ایران گیس پائپ لائن اور عالمی طاقتوں سے ایران کے جوہری معاہدے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیر اعظم نوازشریف نے ملاقات کے دوران ایرانی وزیر خارجہ سے کہا کہ خطے کی بدلتی صورتحال میں ایران کا کردار انتہائی اہم ہے۔ پاکستان، ایران کے ساتھ تعلقات کو مزید فروغ دینا چاہتا ہے۔ پاکستانی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ایران خطے کا اہم ملک ہے، بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال نے خطے میں ایران کا کردار مزید اہم بنا دیا ہے۔ پاکستان ایران کے ساتھ اپنے دوطرفہ تعلقات میں مزید فروغ کا خواہاں ہے۔