.

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل حمید گل کا انتقال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستانی فوج کی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق سربراہ لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ حمید گل 79 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ مرحوم سول اور فوجی حلقوں میں اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کی وجہ سے انتہائی عزت و احترام کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔ ان کی تدفین مرحوم کے بیٹے عبداللہ گل کی آج ترکی سے واپسی پر کسی وقت ہو گی۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق، ہفتہ کی رات حمید گل کو برین ہیمرج ہونے پر تشویش ناک حالت میں مری کے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال (سی ایم ایچ ) منقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔

خرابی صحت کی بناء پر حمید گل کچھ عرصے سے مری میں قیام پذیر تھے۔

20 نومبر 1936 کو سرگودھا میں پیدا ہونے والے حمید گل نے اکتوبر 1956 میں فوج میں کمیشن حاصل کیا۔وہ 1965 کی جنگ میں چونڈہ کے محاذ پر ٹینک کمانڈر رہے۔

1968-69 میں کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ میں تربیت حاصل کرنے کے بعد 76-1972 تک بٹالین کمانڈر اور 1978 میں انہیں ترقی دے کر بریگیڈیر بنایا گیا۔

اس کے بعد وہ بتدریج ترقی کرکے بہاولپور کے مارشل لا ایڈمنسٹریٹر اور ملتان کے کور کمانڈر رہے۔

حمید گل 89-1987 تک آئی ایس آئی کے سربراہ رہے، اس دوران سوویت یونین کی افغانستان میں جارحیت کے حوالے سے ان کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل رہا۔

انہیں اسلامی جمہوری اتحاد [آئی جے آئی] کا ماسٹر مائنڈ بھی سمجھا جاتا تھا۔ مغربی میڈیا انہیں طالبان کا بانی بھی سمجھتا ہے اور ان کے افغانستان کے جہادی رہنماوں سے قریبی تعلقات تھے۔

1992 میں فوج سے ریٹائر ہونے والے حمید گل کو ان کی خدمات پر ہلال امتیاز (ملٹری) اور ستارہ بسالت سے نوازا گیا۔

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے حمید گل کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے .

صدر ممنون حسین، وزیر اعظم نواز شریف، پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین، جے یو آئی (ایف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے بھی جنرل (ر) حمید گل کے انتقال پر اظہار افسوس کیا ہے۔