.

شمالی وزیرستان: فضائی حملے میں 25 مشتبہ جنگجو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کی بدھ کے روز بمباری میں پچیس مشتبہ جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

عسکری ذرائع کے مطابق پاک فضائیہ کے لڑکا جیٹ نے شمالی وزیرستان کے افغان سرحد کے نزدیک واقع علاقے وادی شوّال میں جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔ذرائع کے مطابق ان کے چار ٹھکانے تباہ کردیے گئے ہیں اور پچیس جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔فوری طور پر ان جنگجوؤں کی شناخت معلوم نہیں ہوسکی۔

گذشتہ اتوار کو ضلع اٹک میں پنجاب کے وزیرداخلہ شجاع خان زادہ کی ایک خودکش بم حملے میں ہلاکت کے بعد سے پاک فضائیہ نے شمالی وزیرستان میں متعدد فضائی حملے کیے ہیں اور ان میں قریباً ایک سو مشتبہ جنگجو ہلاک ہوچکے ہیں۔تاہم کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ایک دھڑے کے ترجمان احسان اللہ احسان نے دعویٰ کیا ہے کہ فضائی حملوں میں کوئی جنگجو ہلاک نہیں ہوا ہے۔

وادی شوال کے ایک مکین شادم خان نے برطانوی خبر رساں ادارے رائیٹرز کے نمائندے کو بتایا ہے کہ اتوار کے بعد سے ہم مسلسل بم دھماکوں اور گولہ باری کی آوازیں سن رہے ہیں لیکن ہمیں علاقہ چھوڑنے کی کوئی ہدایت نہیں کی گئی ہے۔انھوں نے سکیورٹی فورسز سے محفوظ راستہ دینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ وہ اپنے خاندانوں کو محفوظ مقامات کی جانب منتقل کرسکیں۔

پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے تین روز پہلے بھی وادیِ شوّال میں طالبان جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے تھے اور ان میں کم سے کم چالیس دہشت گرد ہلاک ہوگئے تھے۔وادیِ شوّال کا علاقہ ٹی ٹی پی کے ایک کمانڈر خان سید سجنا کے حامیوں کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔امریکا نے گذشتہ سال خان سید سجنا کا نام عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔

پاکستان کی سکیورٹی فورسز گذشتہ سال جون سے شمالی وزیرستان میں ٹی ٹی پی اور دوسرے دہشت گرد گروپوں کے خلاف آپریشن ضربِ عضب کے نام سے ایک بڑی کارروائی کررہی ہیں۔پاک فوج نے جون میں آپریشن ضربِ عضب کا ایک سال پورا ہونے پر کہا تھا کہ شمالی وزیرستان میں فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں قریباً اٹھائیس سو جنگجو مارے جا چکے ہیں۔