.

پاکستان-بھارت مذاکرات پھر کھٹائی میں پڑ گئے

بین کی مون کا مذاکرات معطلی پر گہری تشویش کا اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کو کشمیری حریت پسند رہنماؤں سے نہ ملنے کی بھارتی تجویز مسترد ہونے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان قومی سلامتی کی سطح پر ہونے والے مذاکرات تعطل کا شکار ہونے کا اندیشہ پیدا ہو گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری بین کی مون نے مذاکرات کے حوالے سے بے یقینی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ملکوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے عوام کے مفادات کا خیال رکھتے ہوئے کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کریں اور مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔

پاکستان کی جانب باضابطہ طور پر ہندوستان تجویز مسترد کیے جانے کے بعد بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ نے دفتر خارجہ کا دورہ کیا اور ہندوستان وزارت خارجہ کا مراسلہ حوالے کیا۔

سفارتی ذرائع نے بتایا کہ ہندوستان نے پاکستان کو کہا ہے کہ وہ اپنے ایجنڈے میں سے کشمیر اور حریت رہنماؤں سے ملاقات کے نکات نکال دے۔

دوسری جانب ترجمان پاکستانی دفتر خارجہ نے کہا کہ ہندوستان کی امور خارجہ کے ترجمان کے بیان پر اسلام آباد کو سخت مایوسی ہوئی ہے۔ دفتر خارجہ سے جاری بیان میں ترجمان نے کہا ہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ہندوستان نے طے شدہ مذاکرات سے راہ فرار اختیار کی۔

ترجمان دفتر خارجہ قاضی خلیل اللہ کے مطابق گزشتہ چند ماہ میں لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باونڈری پر تناؤ میں اضافہ ہوا، ضرورت اس بات کی تھی کہ دونوں ملک کشیدگی میں کمی اور تعلقات معمول پر لانے کے لیے سنجیدہ مذاکرات کرتے۔

اس سے قبل پاک ہندوستان مذاکرات کے حوالے سے دفتر خارجہ میں اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، جس میں دونوں ممالک کے قومی سلامتی کے مشیروں کے مذاکرات کے حوالے سے حکمت عملی پر غور کیا گیا۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ 23 اگست کو مشیر خارجہ کے اعزاز میں استقبالیے میں ہندوستان میں پاکستانی ہائی کمشنر کی جانب سے کشمیری رہنماؤں کو ملاقات کی دعوت ماضی کی روایات کے عین مطابق تھی اور پاکستان بغیر کسی وجہ کے ان ملاقاتوں کو ختم نہیں کر سکتا کیوں کہ کشمیری حریت رہنما مسئلہ کشمیر کے حقیقی فریق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اوفا میں دونوں وزراء اعظم میں طے پانے والے متعدد امور کے پر بات چیت کے برعکس ہندوستان صرف دہشت گردی تک مذاکرات محدود رکھنا چاہتا ہے جو دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کی ملاقات میں طے ہونے والے فیصلوں کی نفی ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے معاہدوں کی خلاف ورزی نہیں کی اور ہمیشہ بامقصد مذاکرات کا حامی رہا ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان کشمیر سمیت درینہ مسائل کاحل نکالا جا سکے، پاکستان ہندوستان سمیت اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات کا خواہاں ہے۔