.

افغانستان سے راکٹ حملے میں چار پاکستانی فوجی شہید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں فوج کی ایک سرحدی چوکی پر افغانستان سے راکٹ حملے میں چار فوجی شہید ہوگئے ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق افغانستان سے دہشت گردوں نے اتوار کو خیبر ایجنسی کے سرحدی علاقے میں واقع ایک چوکی پر راکٹ فائر کیے ہیں۔اس حملے میں چار فوجی شہید اور چار زخمی ہوئے ہیں۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان کی جانب سے دہشت گردوں نے آٹھ ہزار فٹ بلند اخوندوالا پاس میں واقع چوکی پر مارٹر گولے اور راکٹ فائر کیے ہیں۔اس حملے کے ردعمل میں پاکستانی فوجیوں نے بھِی منہ توڑ جواب دیا ہے اور دہشت گردوں کے گروپ کا خاتمہ کردیا ہے۔

افغانستان کے سرحدی علاقے سے پاکستان آرمی کی چوکی پر یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی پائی جارہی ہے اور طالبان مزاحمت کاروں نے اپنے امیر ملا محمد عمر کے انتقال کی خبر افشاء ہونے کے بعد افغان سکیورٹی فورسز اور غیرملکی فوجیوں پر حملے تیز کردیے ہیں۔

افغان صدر اشرف غنی اور دوسرے عہدے دار پاکستان کو طالبان کی روز بروز بڑھتی ہوئی تشدد آمیز کارروائیوں کا مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں جبکہ پاکستان افغانستان کے داخلی امور اور تشدد کے واقعات میں کسی بھی طرح ملوّث ہونے کے الزامات کی تردید کرتا چلا آرہا ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے گذشتہ ہفتے اسلام آباد میں متعیّن افغان سفیرجنان موسیٰ زئی کو گذشتہ ہفتے طلب کیا تھا اور ان سے 16 اور 17 اگست کو سرحد پر ایک جھڑپ پر احتجاج کیا تھا۔اس جھڑپ میں پاکستان کی پیرا ملٹری فورس فرنٹیئر کانسٹیبلری کے تین اہلکاروں کی ہلاکت پر احتجاج کیا تھا۔

اسی واقعے پر کابل میں افغان وزارت خارجہ نے پاکستانی سفیر ابرار حسین کو طلب کیا تھا اور ان سے سرحدی جھڑپ پر احتجاج کیا تھا۔افغان حکام نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس واقعے میں ان کے آٹھ سرحدی محافظ ہلاک ہوئے تھے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق افغان سفیر پر یہ واضح کیا گیا تھا کہ پاکستانی حکام نے پالیسی کے تحت فائرنگ کی ابتدا نہیں کی تھی اور انھوں نے اپنے دفاع میں ہی فائر کیا تھا۔