.

پی ایم ایل این کے ایک اور رکن اسمبلی کا انتخاب کالعدم قرار

این اے 154 میں دوبارہ انتخاب کا حکم، پی ٹی آئی کی ٹرائبیونل میں تیسری کامیابی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے الیکشن ٹرائبیونل نے ضلع لودھراں سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 154سے حکمراں جماعت مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) کے کامیاب امیدوار محمد صدیق خان بلوچ کا انتخاب کالعدم قرار دے دیا ہے اور حکومت مخالف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے شکست خوردہ امیدوار جہانگیر خان ترین کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔

الیکشن ٹرائبیونل نے اس حلقے میں دوبارہ انتخاب کرانے کا حکم دیا ہے۔دونوں جماعتوں کے وکلاء نے 20 اگست کو اپنے دلائل مکمل کر لیے تھے اور ٹرائبیونل نے آج بدھ کو ملتان میں اپنا فیصلہ سنایا ہے۔

محمد صدیق خان بلوچ گذشتہ عام انتخابات میں اس حلقے سے آزاد حیثیت میں کامیاب ہوئے تھے اور وہ بعد میں پی ایم ایل این میں شامل ہوگئے تھے۔ان کے حق میں 86,177 ووٹ ڈالے گئے تھے۔پی ٹی آئی کے امیدوار جہانگیر ترین نے 75,955 ووٹ حاصل کیے تھے۔انھوں نے کامیاب امیدوار کے خلاف انتخابی عذرداری دائرکی تھی اور اس میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ صدیق بلوچ کے پاس میٹرک ،انٹرمیڈیٹ اور بی اے کی ڈگریاں جعلی ہیں اور انھوں نے پولنگ کے روز دھاندلی اور دوسرے غیر قانونی کام کیے تھے۔

پی ٹی آئی کے سابق سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین نے ملتان میں نیوزکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''اس فیصلے سے ثابت ہوگیا ہے کہ مجھے 2013ء میں منعقدہ عام انتخابات کے بعد قومی اسمبلی کا رکن ہونا چاہیے تھا''۔انھوں نے پارٹی کے چئیرمین عمران خان کو اپنے حق میں فیصلہ آنے پر مبارک دی اور کہا کہ ان کی کوششوں کے نتیجے میں پی ایم ایل این کی تیسری وکٹ گری ہے۔

انھوں نے چاروں صوبائی الیکشن کمشنروں سے عہدے چھوڑنے کا مطالبہ کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ جب تک ان عہدے داروں کا احتساب نہیں کیا جاتا ہے،اس وقت تک ملک میں جمہوریت پنپ نہیں سکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم الیکشن کمیشن پاکستان کو عوام کے سامنے جواب دہ بنائیں گے۔

واضح رہے کہ این اے 154 قومی اسمبلی کے ان چار حلقوں میں سے ایک ہے جہاں پی ٹی آئی کے شکست خوردہ امیدواروں نے مسلم لیگ نواز کے کامیاب امیداواروں کی جیت کو چیلنج کیا تھا اور انتخابی دھاندلیوں کی تحقیقات کے بعد ان حلقوں میں دوبارہ انتخاب کا مطالبہ کیا تھا۔

تین دوسرے حلقے این اے 110 (سیالکوٹ) این اے 122 (لاہور) اور این اے 125 ( لاہور) ہیں۔ پی ٹی آئی نے ان چاروں حلقوں میں ووٹروں کے انگوٹھوں کے نشان کی تصدیق کا مطالبہ کیا تھا اور اس کے قائد عمران خان نے اسلام آباد میں پارلیمان کے سامنے چار ماہ تک مبینہ انتخابی دھاندلیوں کے خلاف احتجاجی دھرنا دیے رکھا تھا۔

گذشتہ ہفتے کے روز پنجاب الیکشن ٹرائبیونل نے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے انتخاب کو کالعدم قرار دے دیا تھا اور این اے 122 میں دوبارہ انتخاب کرانے کا حکم دیا تھا۔سردار ایاز صادق پی ٹی آئی کے چئیرمین عمران خان کے مقابلے میں کامیاب ہوئے تھے۔عمران خان نے انتخابی نتائج کو چیلنج کیا تھا اور انھوں نے پولنگ کے دوران بڑے پیمانے پر دھاندلیوں اور بے ضابطگیوں کے الزامات عاید کیے تھے۔ان الزامات کی چھان بین کے بعد الیکشن ٹرائبیونل نے اس حلقے سے سردار ایاز صادق کا انتخاب کالعدم قرار دیتے ہوئے دوبارہ پولنگ کرانے کا حکم دیا تھا۔

اس سے پہلے انتخابی عذر داریوں کی سماعت کرنے والے الیکشن ٹرائبیونل فیصل آباد نے وزیرریلوے خواجہ سعد رفیق کو سنہ 2013ء میں منعقدہ عام انتخابات میں دھاندلی اور بے ضابطگیوں کے الزامات ثابت ہونے پر اسمبلی سے باہر کردیا تھا۔

الیکشن ٹرائبیونل نے ان کے حلقہ نیابت این اے 125 اور صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 155 پر دوبارہ انتخاب کرانے کا حکم دیا تھا لیکن خواجہ سعد رفیق کی درخواست پر عدالت عظمیٰ پاکستان نے الیکشن ٹرائبیونل کے دوبارہ انتخاب کرانے سے متعلق فیصلے کو معطل کردیا تھا۔ عدالت عظمیٰ نے ابھی ان کی درخواست پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔