.

شمالی وزیرستان، خیبر میں فضائی حملے ،31 جنگجو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وفاق کے زیرانتظام دو قبائلی علاقوں شمالی وزیرستان اور خیبرایجنسی میں فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کے حملوں میں اکتیس مشتبہ جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

عسکری ذرائع کے مطابق پاک فضائیہ کے لڑاکا جیٹ طیاروں نے بدھ کے روز شمالی وزیرستان کے افغان سرحد کے نزدیک واقع علاقے میں جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے،ان میں سترہ جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔فوری طور پر ان جنگجوؤں کی شناخت معلوم نہیں ہوسکی ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق قبل ازیں خیبر ایجنسی میں پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے بمباری کی ہے اور اس میں چودہ جنگجو مارے گئے ہیں اور ان کے متعدد ٹھکانے تباہ کردیے گئے ہیں۔

پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے گذشتہ ہفتے شمالی وزیرستان کے علاقے وادیِ شوّال میں طالبان جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے تھے اور ان میں کم سے کم چالیس دہشت گرد ہلاک ہوگئے تھے۔وادیِ شوّال کا علاقہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ایک کمانڈر خان سید سجنا کے حامیوں کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان کی سکیورٹی فورسز گذشتہ سال جون سے شمالی وزیرستان میں ٹی ٹی پی اور دوسرے دہشت گرد گروپوں کے خلاف آپریشن ضربِ عضب کے نام سے ایک بڑی کارروائی کررہی ہیں۔پاک فوج نے جون میں آپریشن ضربِ عضب کا ایک سال پورا ہونے پر اطلاع دی تھی کہ شمالی وزیرستان میں فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں قریباً اٹھائیس سو جنگجو مارے جا چکے ہیں۔

لیکن شمالی وزیرستان کے افغان سرحد کے نزدیک واقع دشوار گذار پہاڑی علاقوں میں ابھی تک ٹی ٹی پی یا دوسرے گروپوں کے جنگجو اپنی خفیہ کمین گاہوں میں موجود ہیں اور وہ پاکستان کے مختلف شہروں میں سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں پر وقفے وقفے سے حملے کرتے رہتے ہیں۔منگل کے روز خیبر ایجنسی میں ایک خودکش بم دھماکے میں پانچ افراد ہلاک اور پچاس سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔ تاہم آپریشن ضربِ عضب کے نتیجے میں پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔