.

پاکستان ساختہ ڈرون کی پہلی کارروائی میں 3 'دہشت گرد' ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستانی وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں پاکستان میں بننے والے 'براق' ڈرون کی پہلی کارروائی میں تین انتہائی مطلوب مشتبہ دہشت گرد ہلاک ہو گئے.

پاک افواج کے شعبہ تعلقات عامہ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے ایک ٹوئٹر پیغام میں بتایا کہ پیر کو شمالی وزیرستان کی تحصیل شوال میں پاکستانی براق ڈرون نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا.

ترجمان آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کے تیار کردہ پہلے براق ڈرون کی مدد سے کی گئی کارروائی میں تین انتہائی مطلوب دہشت گرد ہلاک ہو گئے.

یاد رہے کہ وفاق کے زیرِ انتظام پاک افغان سرحد پر واقع شمالی وزیرستان، خیبر ایجنسی اوراورکزئی ایجنسی سمیت سات ایجنسیوں کو عسکریت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہ سمجھا جاتا ہے۔

حکومت اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے درمیان امن مذاکرات کی ناکامی اور کراچی ایئرپورٹ پر حملے کے بعد پاک فوج نے 15 جون 2014 کو شمالی وزیرستان میں آپریشن ضربِ عضب کا آغاز کیا تھا۔

علاقے میں آزاد میڈیا کی رسائی نہ ہونے کی وجہ سے تمام تر تفصیلات آئی ایس پی آر کی جانب سے فراہم کی جاتی ہیں، اس لیے عمومی طور پر ان تفصیلات کی تصدیق نہیں ہو پاتی۔ تاہم فوج کی جانب سے آپریشن کے آغاز کے بعد ایک مرتبہ ملکی اور غیرملکی میڈیا کو تحصیل میرعلی کا دورہ کروایا گیا تھا۔

شمالی وزیرستان کی تحصیل میرعلی کو دہشت گردوں سے خالی کروانے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کا دائرہ کار شمالی وزیرستان کے دوردراز علاقوں تک بڑھا دیا۔ بعد ازاں اکتوبر 2014 میں خیبر ایجنسی میں آپریشن خیبر- ون اور مارچ 2015 میں آپریشن خیبر- ٹو کا آغاز کیا گیا.