.

''اب دوسروں کو کافر کہنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ ریاستِ پاکستان اب دوسروں کو کافر قرار دینے والوں کے خلاف کارروائی کرے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت پہلے مرحلے میں منافرت پر مبنی تقاریر اور دہشت گردوں کو تقدیس کا جامہ پہنانے کی روک تھام کے لیے اقدام کرچکی ہے۔

انھوں نے یہ بات اسلام آباد میں وزیراعظم میاں نوازشریف کی صدارت میں اتحاد تنظیمات مدارس کے نمائندوں اور علماء کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ طرفین نے دینی مدارس میں اصلاحات کے عمل کو آگے بڑھانے سے اتفاق کیا ہے اور ان کے درمیان اس ضمن میں اہم ایشوز پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔

چودھری نثار نے کہا کہ علماء نے دہشت گردی کی مذمت کی ہے اور انھوں نے ملک سے اس لعنت کے خاتمے کے لیے حکومت کے ساتھ تعاون کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اجلاس میں اس بات سے اتفاق کیا گیا ہے کہ جو کوئی بھی فرد یا تنظیم دہشت گردی میں ملوّث ہوگی،اس کے خلاف ملکی قانون کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ مدارس کے رجسٹریشن کے معاملے پر بھی حکومت اور علماء کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے اور انھوں نے اس کو ضروری قرار دیا ہے۔البتہ ان کا کہنا ہے کہ اس کا عمل آسان ہونا چاہیے۔اس سلسلے میں وزارت داخلہ کی ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو مدارس کی رجسٹریشن کے لیے ایک فارم تیار کرے گی۔

وزیرداخلہ نے صحافیوں کو مزید بتایا کہ علماء نے اپنے فنڈز کی آڈٹ رپورٹس پیش کرنے سے بھی اتفاق کیا ہے۔ حکومت مدارس کو بیرون ملک سے ملنے والے عطیات کو باضابطہ بنانے کے لیے ایک طریق کار وضع کرے گی۔

انھوں نے کہا کہ اتحاد تنظیمات المدارس کو اعتماد میں لینے کے بعد مدرسہ اصلاحات کے لیے قانون سازی کی جائے گی اور اس معاملے میں بھی اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔طرفین نے اس بات سے بھی اتفاق کیا ہے کہ صرف طاقت کے استعمال کے ذریعے دہشت گردی کا خاتمہ نہیں کیا جاسکتا ہے اور اس سلسلے میں علمی سطح پر کوششیں بھی یکساں اہمیت کی حامل ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وزارت داخلہ معاشرے کے تمام طبقات کی نمائندہ ایک کمیٹی تشکیل دے گی جو مدارس کے نصاب کا جائزہ لے گی اور اپنی تجاویز پیش کرے گی۔ علماء نے حکومت کو اصلاحات کے عمل میں مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔

مدرسہ اصلاحات

قبل ازیں وزیراعظم میاں نواز شریف نے علماء کے ساتھ ملاقات میں دینی مدارس میں فوری طور پر اصلاحات کا عمل شروع کرنے کی ضرورت پر زوردیا تاکہ دہشت گردی کے خاتمے میں مدد مل سکے۔

انھوں نے مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء اور اتحاد تنظیمات مدارس کے نمائندوں کے اجلاس میں مدارس کے نصاب میں رضاکارانہ طور پر اصلاحات کی ضرورت پر زوردیا تاکہ ان کے بہ قول وہاں زیرتعلیم طلبہ کو بہتر تعلیم دی جاسکے اور دہشت گردی کا خاتمہ کیا جاسکے۔

انھوں نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کے لیے قومی منصوبے پر موثر انداز میں عمل درآمد کے لیے علماء سے مشاورت ضروری تھی۔دینی مدارس دینی تعلیم کا ایک قابل قدر ذریعہ ہیں لیکن کسی کو دوسرے فرقوں اور مذاہب کے خلاف نفرت پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ قوم مشترکہ کاوشوں کے ذریعے ہی ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کرسکتی ہے اور شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لیے تمام فریقوں کو ایک دوسرے سے تعاون کرنا چاہیے۔حکومت اس سلسلے میں دینی مدارس کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔

اجلاس میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء شریک تھے۔ان میں اتحاد تنظیمات مدارس کے صدر مفتی منیب الرحمان ،جامعہ دارالعلوم کراچی کے نائب مہتمم مولانا محمد تقی عثمانی ،وفاق المدارس پاکستان کے سیکریٹری جنرل قاری محمد حنیف جالندھری،پروفیسر ساجد میر،سید محمد نجفی اور مولانا عطاء الرحمان نمایاں ہیں۔اجلاس میں وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان کے علاوہ وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف ،چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف ،وزیرمملکت برائے داخلہ بلیغ الرحمان اور دوسرے اعلیٰ حکومتی عہدے دار بھی شریک تھے۔