.

عدالتِ عظمیٰ کا اُردو بطور سرکاری زبان اختیار کرنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عدالتِ عظمیٰ پاکستان نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ملک میں اُردو کو بطور قومی زبان اختیار کرنے کے حکم دیا ہے۔

عدالتِ عظمیٰ کے چیف جسٹس ،جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ایڈووکیٹ کوکب اقبال خواجہ کی دائرکردہ آئینی درخواست پر منگل کے روز یہ فیصلہ سنایا ہے اور حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ اردو کے فروغ اور نفاذ سے متعلق اپنے آئینی تقاضے پورا کرے۔

بارہ صفحات کو محیط یہ فیصلہ چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے لکھا ہے اور اس میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اردو کے سرکاری زبان کے طور پر نفاذ سے متعلق عدالت میں پیش کردہ نظام الاوقات کی سختی سے پابندی کریں۔تمام وفاقی ادارے اور صوبائی حکومتیں اس فیصلے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی پابند ہوں گی۔

انھوں نے یہ فیصلہ آئین کے آرٹیکل251 میں درج آئینی تقاضا پورا کرنے کی خاطر اردو میں تحریر کیا ہے۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ:‘‘عدالتی کارروائی کی سماعت میں اکثر یہ احساس شدت سے ہوتا ہے کہ کئی دہائیوں کی محنتِ شاقہ اور کئی بے نوا نسلوں کی کاوشوں کے باوجود آج بھی انگریزی ہمارے ہاں بہت ہی کم لوگوں کی زبان ہےاور اکثر فاضل وکلاء اور جج صاحبان بھی اس میں اتنی مہارت نہیں رکھتے جتنی کہ درکار ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ آئین اور قانون کے نسبتاً سادہ نکتے بھی انتہائی پیچیدہ اور ناقابلِ فہم معلوم ہوتے ہیں''۔

جناب چیف جسٹس نے لکھا ہے کہ ''ہمارا آئین پاکستان کے عوام کی اس خواہش کا عکاس ہے کہ وہ خود پرلاگوہونے والے تمام قانونی ضوابط اور اپنے آئینی حقوق کی بابت صادر کیے گئے فیصلوں کو براہِ راست سمجھنا چاہتےہیں۔ وہ یہ چاہتے ہیں کہ حکمران جب اُن سے مخاطب ہوں تو ایک پرائی زبان میں نہیں، بلکہ قومی یا صوبائی زبان میں گفتگو کریں۔ یہ نہ صرف عزتِ نفس کا مطالبہ ہے بلکہ ان کے بنیادی حقوق میں شامل ہے اور دستور کا بھی تقاضا ہے''۔

انھوں نے انگریزی زبان کے حوالے سے فیصلے میں لکھا ہے:''ایک غیر ملکی زبان میں لوگوں پر حکم صادر کرنا محض اتفاق نہیں، یہ سامراجیت کا ایک پرانا اور آزمودہ نسخہ ہے۔تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ یورپ میں ایک عرصے تک کلیسائی عدالتوں کا راج رہا جہاں شرع و قانون کا بیان صرف لاطینی زبان میں ہوتا تھا، جو راہبوں اور شہزادوں کے سوا کسی کی زبان نہیں تھی۔ یہاں برصغیر پاک و ہند میں آریائی عہد میں حکمران طبقے نے قانون کو سنسکرت کے حصار میں محدود کر دیا تا کہ برہمنوں ، شاستریوں اور پنڈتوں کے سوا کسی کے پلے کچھ نہ پڑے۔ بعد میں درباری اور عدالتی زبان ایک عرصہ تک فارسی رہی جو بادشاہوں، قاضیوں اور رئیسوں کی تو زبان تھی لیکن عوام کی زبان نہ تھی۔ انگریزوں کے غلبے کے بعد لارڈ میکالے کی تہذیب دشمن سوچ کے زیرِ سایہ ہماری مقامی اور قومی زبانوں کی تحقیر کا ایک نیا باب شروع ہوا جو بدقسمتی سے آج تک جاری ہے اور جس کے نتیجہ میں ایک طبقاتی تفریق نے جنم لیا ہے جس نے ایک قلیل لیکن قوی اور غالب اقلیت (جو انگریزی جانتی ہے اور عنانِ حکومت سنبھالے ہوئے ہے) اور عوام الناس (جو انگریزی سے آشنا نہیں) کے درمیان ایک ایسی خلیج پیدا کر دی ہے جو کسی بھی طور قومی یک جہتی کے لیے سازگار نہیں''۔

عدالت نے قرار دیا ہے کہ '' آئینِ پاکستان ہمارے عوام کے سیاسی اور تہذیبی شعور کا مُنھ بولتا ثبوت ہے، جنھوں نے آرٹیکل 251 اور آرٹیکل 28 میں محکومانہ سوچ کو خیرباد کہ دیا ہے اور حکمرانوں کو بھی تحکّمانہ رسم و رواج ترک کرنے اور سُنتِ خادمانہ اپنانے کا عندیہ دیا ہے۔ آئین کی تشریح سے متعلق فیصلے اُردو میں سُنانا یا کم از کم ان کے تراجم اردو میں کرانا اسی سلسلے کی ایک چھوٹی سی کڑی ہے۔عدالتِ عظمیٰ نے اسی کڑی کو آگے بڑھانے کے لیے ایک شعبۂ تراجم بھی قائم کیا ہے جو عدالتی فیصلوں کو عام فہم زبان میں منتقل کرتا ہے’’۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ''یہ ہماری پسند ناپسند کا معاملہ ہے اور نہ ہماری تن آسانی کا، بلکہ یہ آئینی حکم ہے کہ اردو کو بطور سرکاری زبان اور برائے دیگر امور نافذ کیا جائے اور صوبائی زبانوں کی بھی ترویج کی جائے''۔

عدالت عظمیٰ نے تمام وفاقی اور صوبائی سیکریٹریوں کواس فیصلے کی نقول بھیجنے کی ہدایت کی ہے تاکہ وہ آئین کی دفعہ پانچ کی روشنی میں دفعہ 251 کے نفاذ کے لیے فوری اقدامات کریں۔عدالت نے متعلقہ وفاقی اور صوبائی سیکریٹریوں کو یہ بھی حکم دیا ہے کہ وہ اس فیصلے پر عمل درآمد سے متعلق رپورٹس پیش کریں۔اس ضمن میں پہلی رپورٹ تین ماہ کے اندر عدالت عظمیٰ میں پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔