.

پاکستان ''ساختہ'' داعش کا فوج کی سرحدی چوکی پر حملہ

شمالی وزیرستان میں پاک فضائیہ کے حملے میں 12 جنگجو ہلاک ہوگئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے ساتھ وابستگی کا اظہار کرنے والے پاکستانی جنگجوؤں نے افغانستان کی سرحد پر واقع پاکستان کی پیرا ملٹری فورسز کے ایک چیک پوائنٹ پر حملے کا دعویٰ کیا ہے۔

داعش سے وابستہ ایک جنگجو نے اپنے جاننے والے صحافیوں کو ٹیلی فون کے ذریعے بتایا ہے کہ انھوں نے پاکستان کے وفاق کے زیرانتظام شمال مغربی قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں ڈما ڈولا میں واقع ایک سرحدی چوکی پر ہفتے کی رات حملہ کیا تھا۔

اس نے دعویٰ کیا ہے کہ ''ہمارے آدمیوں نے چوکی کو تباہ کردیا ہے اور پھر اس کو آگ لگا دی۔وہ اس آپریشن کی تکمیل کے بعد وہاں سے واپس چلے گئے تھے''۔پاکستان کے دو انٹیلی جنس حکام نے ایک چیک پوائںٹ پر حملے کی تصدیق کی ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

گذشتہ سال کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تعلق رکھنے والے بعض کمانڈروں اور چھوٹے گروپوں نے داعش کے خلیفہ ابوبکر بغدادی کی بیعت کا اعلان کیا تھا۔اس کے بعد پاکستان کے سرحدی علاقے میں داعش کے جنگجوؤں کا یہ پہلا حملہ ہے۔

تاہم ابھی تک ان دھڑوں نے اپنے طور پر ہی داعش کے خلیفہ کی بیعت اور اس گروپ کے ساتھ وابستگی کے اعلانات کیے ہیں اور داعش نے باضابطہ طور پر اس بیعت کو قبول نہیں کیا ہے اور نہ ہی اس گروپ کی مرکزی قیادت نے اب تک پاکستان میں دہشت گردی کے کسی حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

شمالی وزیرستان اور افغانستان میں ہلاکتیں

درایں اثناء ادھر شمالی وزیرستان کے علاقے وادی شوّال میں پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے طالبان جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں بارہ مشتبہ جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔افغان سرحد کے نزدیک گھنے جنگلوں پر مشتمل وادی شوّال بچے کچھے طالبان کا اہم گڑھ ہے اور یہیں سے افغانستان میں اسمگلنگ کی جاتی ہے۔

پاکستان آرمی گذشتہ سوا ایک سال سے شمالی وزیرستان میں جنگجوؤں کے خلاف آپریشن ضرب عضب کررہی ہے لیکن اس بڑی کارروائی کے باوجود طالبان اور دوسرے گروپوں سے تعلق رکھنے والے جنگجو اس علاقے میں موجود ہیں اور ان کا مکمل طور پر صفایا نہیں کیا جاسکا ہے۔

ادھر افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار میں امریکا کے ایک بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے کے میزائل حملے میں چار مشتبہ طالبان مزاحمت کار ہلاک ہوگئے ہیں۔ان میں ایک جنگجو کمانڈر بھی شامل ہے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق ڈرون نے پاکستان کے ساتھ سرحد کے نزدیک واقع افغان علاقے لال پور میں ایک ڈبل کیبن گاڑی کو اپنے میزائل حملے میں نشانہ بنایا ہے۔مرنے والوں میں شامل طالبان کمانڈر کی شناخت حبیب اللہ کے نام سے کی گئی ہے۔