.

پاک فضائیہ کے کیمپ پر دہشت گردوں کا حملہ، 29 اہلکار شہید

سریع الحرکت فورس کی جوابی کارروائی میں 13 دہشت گرد ہلاک ہو گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے شمال مغربی شہر پشاور کے قریب انقلاب روڈ پر پاکستان ایئر فورس (پی اے ایف) کے بڈھ بیر کیمپ پر مسلح دہشت گردوں کے حملے میں سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 29 افراد شہید اور 29 زخمی ہو گئے جب کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 13 حملہ آور بھی مارے گئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ پاک فضائیہ کے 23، پاک فوج کے 3 جبکہ 3 سویلین بھی اس حملے میں شہید ہوئے جبکہ 29 افراد زخمی بھی ہوئے.

حملہ آور دہشت گردوں نے کیمپ میں موجود مسجد میں نماز فجر کی ادائی کے دوران اندھا دھند فائرنگ کردی تھی جس سے 29 افراد شہید ہوئے۔ پاک فوج کی سریع الحرکت فورس کے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے دوران کیپٹن اسفندیار شہید جبکہ 10 سیکیورٹی اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل، میجر جنرل عاصم باجوہ نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک پیغام میں بتایا کہ پشاور میں بڈابیر کے قریب پاک فضائیہ کے کیمپ پر دہشت گردوں کے گروپ نے دو اطراف سے حملہ کیا تھا۔ انھوں نے واضح کیا کہ کیمپ فضائیہ کی آپریشنل بیس نہیں بلکہ رہائشی کمپاونڈ تھا۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ترجمان محمد خراسانی نے صحافیوں کو بھیجی گئی ایک ای میل میں اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے ایک اور ٹویٹ میں جنگجوؤں کے خلاف کارروائی میں کیپٹن اسفندیار کے شہید ہونے کی اطلاع دی ہے اور بتایا ہے کہ دس زخمیوں کو کمبائنڈ ملٹری اسپتال (سی ایم ایچ) پشاور منتقل کر دیا گیا ہے۔

ریسیکیو ذرائع کے مطابق جنگجوؤں کے حملے اور پھر فائرنگ کے تبادلے میں بائیس افراد زخمی ہوئے ہیں۔ان میں سے بیس کو سی ایم ایچ اور دو کو لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ان دونوں اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے اس سے پہلے بتایا تھا کہ سات سے دس دہشت گردوں کے ایک گروپ نے فضائیہ کیمپ کے گارڈ روم پر صبح کے وقت حملہ کیا تھا اور وہ وہاں سے کیمپ میں داخل ہونا چاہتے تھے لیکن سکیورٹی اہلکاروں نے انھیں وہیں تک محصور ومحدود کردیا۔ان کے بہ قول دہشت گرد کیمپ پر حملے کے وقت دو ٹولیوں میں تقسیم ہو گئے تھے۔

بعض عینی شاہدین کے مطابق انھوں نے چھے، سات دہشت گرد دیکھے تھے۔ انھوں نے سیاہ رنگ کی ملیشیا وردی پہن رکھ تھیں اور پاؤں میں سفید رنگ کے جُوتے تھے۔ ایسی وردی صوبے میں کانسٹیبلری کے اہلکار پہنتے ہیں۔ ماضی میں بھی دہشت گرد فورسز کی وردیاں پہن کر کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔

حملے کی اطلاع ملتے ہی سریع الحرکت فورس کو انقلاب روڈ پر جائے وقوعہ کی جانب روانہ کردیا گیا اور وہاں کچھ دیر کے لیے جنگجوؤں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا تھا۔اس دوران پولیس نے تمام علاقے کا محاصرہ کر لیا تھا۔

وزیراعظم میاں نواز شریف نے بڈابیر میں ائیرفورس کیمپ پر حملے کی شدید مذمت کی ہے۔انھوں نے پاکستانی قوم کے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ دہشت گردوں کے خاتمے تک مشن جاری رکھا جائے گا۔انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کو پوری قوم کی مدد وحمایت حاصل ہے۔

"حملہ آور افغانستان سے آئے؟"

پاکستان کی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ جمعہ کو پشاور کے بڈھ بیر فضائی اڈے پر ہونے والے طالبان کے حملے کی نہ صرف منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی، بلکہ اس کارروائی سے متعلق ہدایات بھی وہیں سے دی جاتی رہیں۔ طالبان شدت پسند جمعہ کو علی الصبح فضائی اڈے کی حدود میں داخل ہوئے جہاں سکیورٹی فورسز نے انھیں گھیرے میں لے کر ہلاک کر دیا۔

فوج کے مطابق بڈھ بیر اڈے میں داخل ہونے والے تمام 13 حملہ آور مارے گئے جب کہ ایک فوجی افسر سمیت 29 افراد شہید ہو گئے جن میں اکثریت پاکستانی فضائیہ کے اہلکاروں کی تھی۔

جمعہ کی شام پشاور میں فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ اس حملے سے متعلق ابتدائی انٹیلی جنس معلومات سے پتا چلا ہے کہ اس کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی۔

"یہ جو لوگ آئے یہ افغانستان سے آئے، یہ آپریشن افغانستان میں پلان ہو رہا تھا، افغانستان سے ہی پلان ہو کر اس پر عمل کیا گیا اور افغانستان سے ہی کنٹرول ہو رہا تھا اور اس میں آگے کیا تعلق ہے یہ ابھی انٹیلی جنس والے اس پر کام کر رہے ہیں میں اس پر ابھی بات نہیں کرنا چاہتا۔" ان کا کہنا تھا کہ یہ دعویٰ کسی مفروضے پر مبنی نہیں بلکہ وہ یہ بات شواہد کی بنیاد پر کہہ رہے ہیں۔

"ہمارے ہمسایہ ملک میں کوئی پٹاخہ بجتا ہے تو ساتھ ہی پاکستان کی طرف اشارے شروع ہو جاتے ہیں اور ہمارا نام لے لیا جاتا ہے۔ ہم نے جو بھی کہا وہ ثبوت کی بنیاد پر کہا، ہم نے رابطوں کا کھوج لگایا، گفتگو کو سنا اور تکنیکی طور پر جائزہ لینے کے بعد میں نے یہ بتایا۔" تاہم عاصم باجوہ کا کہنا تھا کہ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ اس میں افغان حکومت یا ان کا کوئی ادارہ ملوث ہوسکتا ہے۔

پاکستان پہلے بھی کہتا رہا ہے کہ شمالی علاقوں میں جاری فورسز کی کارروائیوں کے باعث بہت سے شدت پسند فرار ہو کر افغانستان چلے گئے ہیں اور کابل کو ان کے خلاف کارروائی کرنی چاہیئے۔