.

بڈھ بیر کیمپ حملہ: پانچ پاکستانی دہشت گردوں کی شناخت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے شمال مغربی شہر پشاور کے علاقے بڈھ بیر میں پاک فضائیہ (پی اے ایف) کے کیمپ پر جمعہ کی صبح حملے میں ملوّث پانچ دہشت گردوں کی شناخت ہوگئی ہے۔

بڈھ بیر کے علاقے میں انقلاب روڈ پر واقع پاک فضائیہ کے ایک کیمپ پر نمازفجر کے وقت حملے میں اٹھائیس افراد شہید ہوگئے تھے جبکہ سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں چودہ حملہ آور مارے گئے تھے۔

پاکستانی حکام نے اتوار کو ان میں سے پانچ دہشت گردوں کی شناخت کا اعلان کیا ہے۔ان میں سے ایک حملہ آور کا نام رب نواز ولد شیردست خان ہے۔وہ وادی سوات کا رہنے والا تھا اور 16 جون 1995ء کوپیدا ہوا تھا۔شناخت کیے گئے دوسرے دہشت گرد کا نام محمد اسحاق ولد محمد شیرعلی ہے۔وہ یکم جنوری 1988ء کو پیدا ہواتھا اور محلہ امیرملک موسیٰ ،کبل، تحصیل وضلع سوات کا رہنے والا تھا۔

تیسرے دہشت گرد کا نام سراج الدین ہے۔اس کے والد کا نام لعل مت خیل تھا اور وہ 10 فروری 1994ء کو خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ کے علاقے درے کمر خیل،خیل یارال محلہ پلارے ڈاک خوڑ میں پیدا ہوا تھا۔

پی اے ایف کے کیمپ پر حملہ کرنے والے چوتھے شناخت شدہ دہشت گرد کا نام عدنان ولد نظربند خان ہے۔وہ بھی خیبر ایجنسی سے تعلق رکھتا تھا اور 15 اگست 1996ء کومداخیل عالم کلے ،میراہ تحصیل باڑہ میں پیدا ہوا تھا۔

پانچویں دہشت گرد کا نام ابراہیم ہے اور اس کی ولدیت محیب خان ہے۔وہ بھی خیبر ایجنسی سے تعلق رکھتا ہے اور10 مارچ 1988ء کو تحصیل باڑہ کے علاقے سپن قبر میں پیدا ہوا تھا۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے محکمہ فورینزک میڈیسن نے ہفتے کے روز چودہ دہشت گردوں کی لاشوں سے نمونے حاصل کیے تھے اور انھیں مزید تجزیے اور حملہ آوروں کی شناخت کے لیے پنجاب فورینزک سائنس ایجنسی لاہور کو بھیجا تھا۔

حملہ آور دہشت گردوں نے پی اے ایف کے کیمپ میں واقع مسجد میں نماز فجر کی ادائی کے دوران اندھا دھند فائرنگ کی تھی جس سے انیس نمازی موقع پر شہید ہوگئے تھے اور نو شدید زخمی بعد میں اسپتال میں دم توڑ گئے تھے۔ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے دوران پاک فوج کے کیپٹن اسفندیار شہید ہوگئے تھے۔وہ دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کی سریع الحرکت فورس کی کمان کررہے تھے۔کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ترجمان محمد خراسانی نے صحافیوں کو بھیجی گئی ایک ای میل میں اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔